شوشا، آذربائیجان (شِنہوا) آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ جب سے آذربائیجان اور چین کے درمیان ’’جامع تزویراتی شراکت داری‘‘ قائم ہوئی ہے، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، نقل و حمل سمیت دیگر شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب مزید چینی کمپنیاں آذربائیجان میں کام کر رہی ہیں۔
آذربائیجان کے شہر شوشا میں منعقدہ چوتھے ’شوشا گلوبل میڈیا فورم‘ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر صدر علیوف نے شِنہوا کو بتایا کہ کچھ چینی کمپنیوں نے پہلے ہی آذربائیجان میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ دیگر کمپنیاں بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دورہ چین کے موقع پر ’’میں نے چین کی کئی معروف کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کی اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آذربائیجان میں ان کی کارکردگی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وہ بہت تیزی، مہارت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘
صدر علیوف نے بتایا کہ آذربائیجان میں شمسی توانائی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے اور اس وقت ملک میں نصب تمام سولر پینلز چین میں تیار کردہ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک بڑی چینی کمپنی اس وقت آذربائیجان میں سولر پینل تیار کرنے والی فیکٹری قائم کرنے کے لئے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آذربائیجان میں آپ کو جو بھی سولر پینل نظر آتا ہے اور اس منصوبے میں چاہے کسی بھی کمپنی نے سرمایہ کاری کی ہو، وہ چین میں ہی تیار ہوا ہے۔ اس وقت قیمت اور معیار دونوں اعتبار سے کوئی ملک چینی کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
صدر علیوف نے چین کی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے ساتھ مل کر الیکٹرک بسوں کی مشترکہ تیاری کو بھی دوطرفہ تعاون کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جو پہلے ہی شہر کی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔
انہوں نے خوشگوار انداز میں بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بسیں دو رنگوں میں ہیں، الیکٹرک بسیں سبز جبکہ روایتی بسیں سرخ ہیں۔ ظاہر ہے جتنی زیادہ سبز بسیں ہوں گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔


