تہران (لارڈ میڈیا): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت بیانات کے جواب میں ایران نے واضح اور سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی دباؤ یا دھمکیوں سے جھکایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر جنگی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مسلسل دھمکیوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو اپنے نتائج پر نظر ڈالنی چاہیے۔ ان کے بقول ایرانی قوم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور ہر ممکن اقدام کرے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ مخالف فریق پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ جنگی راستہ اختیار کر چکا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کی پائیدار ترقی سے متعلق اسٹریٹجک ایکشن پلان کی منظوری بھی دے دی ہے جسے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


