بیونس آئرس (لارڈ میڈیا): فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران ارجنٹائن کی فٹبال ٹیم توجہ کا مرکز بنی ہے، لیکن اس بار ان کی شاندار کارکردگی پر نہیں بلکہ دنیا بھر کے فٹبال شائقین کے بدلتے رویے کی وجہ سے۔ شائقین جو پہلے ارجنٹائن اور لیونل میسی کی حمایت کرتے تھے، اب ان کی کامیابی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
پہلے لیونل میسی کو ایک دکھی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جو کلب فٹبال میں کامیاب تھے لیکن عالمی کپ نہیں جیت سکے۔ ارجنٹائن کی 2014 ورلڈ کپ اور 2015، 2016 میں فائنل کی شکستوں کے بعد دنیا بھر کے لوگ ان سے ہمدردی رکھتے تھے۔
تاہم، ارجنٹائن کی حالیہ کامیابیاں جیسے 2021 میں کوپا امریکا اور 2022 میں قطر میں فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد، مداحوں کے جذبات بدلنے لگے۔ اب ارجنٹائن کی ہر جیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور ریفریوں کے فیصلوں پر بحث کی جاتی ہے۔
ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز کے جارحانہ انداز اور مخالف ٹیموں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ ان کی حرکات کو بدتمیزی کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری ٹیموں کے کھلاڑیوں کی ایسی ہی حرکات کو جادو کہا جاتا ہے۔
ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، جیسے 2024 کے کوپا امریکہ کی جیت کے دوران گانا گانا، جسے نسل پرستانہ سمجھا گیا۔ مگر اس ایک واقعے کی بنیاد پر پوری ٹیم کو برا کہنا مناسب نہیں۔
ارجنٹائن اب دوسری ٹیموں کے لیے اہم رکاوٹ بن چکا ہے، جو بڑے ٹورنامنٹس میں ان کے فیورٹ ہونے کی وجہ سے ان پر تنقید کرتے ہیں۔ میسی کی کامیابی نے نہ صرف ان کے کیریئر کو مکمل کیا بلکہ ارجنٹائن کے بارے میں دنیا کے فٹبال شائقین کی سوچ بھی تبدیل کر دی۔


