ہومتازہ ترینچین کی اقوام متحدہ کے قیام امن مشن میں ترقی کو اولین...

چین کی اقوام متحدہ کے قیام امن مشن میں ترقی کو اولین ترجیح دینے کی سفارش

اقوام متحدہ (شِنہوا) چینی مندوب نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے قیام امن مشن میں ترقی کو اولین ترجیح دے اور وسائل کی تقسیم میں غربت کے خاتمے، تعلیم، روزگار، صحت کی سہولیات اور عوامی خدمات جیسے عوامی فلاح سے متعلق شعبوں کو ترجیح دینی چاہیے، تاکہ لوگ امن کی اہمیت کو محسوس کر سکیں اور اپنے مستقبل کے لئے امید دیکھ سکیں۔

اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے "قیام امن اور استحکام امن” کے موضوع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے متعلقہ ممالک کو دیرپا امن اور استحکام کے لئے مضبوط اقتصادی اور سماجی بنیاد قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

سن لی نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اقوام متحدہ کے امن سازی کے ڈھانچے نے جنگی تنازعات کے بعد متاثرہ ممالک میں امن اور ترقی کی بحالی کے لئے عالمی کوششوں کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم امن سازی اب بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ 2025 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد مسلح تنازعات کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں عالمی برادری کو 2025 کے قیام امن کے ڈھانچے کے جائزے سے متعلق قرارداد کی منظوری کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ اقوام متحدہ کا امن سازی کا عمل مزید برہدف، عملی اور موثر بنایا جا سکے اور یہ متعلقہ ممالک اور ان کے عوام کی بہتر خدمت کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ملکیت کے بنیادی اصول پر عمل کرنا ضروری ہے، کیونکہ متعلقہ ممالک اپنے امن اور ترقی کے لئے بنیادی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی کے ذریعے امن کے فروغ کے بنیادی تصور کو برقرار رکھے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ بہت سے تنازعات کی جڑیں غربت، ناانصافی اور حکمرانی کے فقدان میں ہوتی ہیں، اس لئے ترقی کے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں۔

سن لی نے اقوام متحدہ کے قیام امن کمیشن کے طریقہ کار اور کام کرنے کے انداز کو مزید بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے متنوع اور موثر مالی معاونت کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ ممالک سے کہا کہ وہ اپنے تعاون میں اضافہ کریں اور قیام امن کے لئے مالی وسائل کے ذرائع کو وسیع کریں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں