بیجنگ (شِنہوا) چین کے لیتھیم بیٹری کے شعبے کے بانی چھن لی چھوان اور ریڈار ٹیکنالوجی کے ماہر بین دے کو بدھ کے روز بیجنگ میں سال 2025 کے لئے چین کے اعلیٰ ترین سائنسی و تکنیکی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
1940 میں پیدا ہونے والے چھن چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف فزکس میں محقق اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ (سی اے ای) کے ماہر تعلیم ہیں۔ انہیں چین کے لیتھیم بیٹری کے شعبے کے بانی، پیش رو اور قائد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
1938 میں پیدا ہونے والے بین چائنہ الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن میں محقق اور سی اے ای کے ماہر تعلیم ہیں۔ انہیں چین کی فضائی پلس ڈوپلر ریڈار ٹیکنالوجی کا بانی، فیزڈ اَرے ریڈار ٹیکنالوجی کے فروغ کے سرخیل اور خلائی نگرانی کے ریڈار ٹیکنالوجی کے اولین علمبرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
انہیں یہ اعزاز ایک ایسے اجلاس میں پیش کیا گیا جس میں قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ (سی اے ای) کے اراکین کے عمومی اجلاس اور چائنہ ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی 11ویں قومی کانگریس کو یکجا کیا گیا تھا۔
بدھ کی تقریب میں 258 منصوبوں اور 11 سائنسی و تکنیکی ماہرین کو اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں سے 51 منصوبوں کو اسٹیٹ نیچرل سائنس ایوارڈ، 58 منصوبوں کو اسٹیٹ ٹیکنالوجیکل انونشن ایوارڈ اور 149 منصوبوں کو اسٹیٹ سائنٹیفک اینڈ ٹیکنالوجیکل پروگریس ایوارڈ دیا گیا۔
اعلیٰ ترین ایوارڈ وصول کرنے والی 2 شخصیات کے علاوہ 9 ماہرین کو ‘چائنہ انٹرنیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوآپریشن ایوارڈ’ سے نوازا گیا۔


