پشاور (لارڈ میڈیا): پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ استحقاق ترمیمی ایکٹ کو آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے اور اسمبلی کی رپورٹنگ کو حکومتی اجازت سے مشروط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں اختیار ولی نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت اختلافی آوازوں اور آزاد صحافت کو محدود کرنے کے لیے قوانین متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی ارکان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی رعایتیں رکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک التوا، سوالات یا دیگر کارروائی اس وقت تک میڈیا میں نشر یا شائع نہیں کی جا سکے گی جب تک سپیکر اسے پیش نہ کریں۔
اختیار ولی نے صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گومل یونیورسٹی انتظامی بحران کا شکار ہے، جبکہ یونیورسٹی آف پشاور مالی مشکلات میں مبتلا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات میں مصروف ہے، جبکہ غیر قانونی کان کنی، منشیات کے کاروبار اور بدعنوانی کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور شدہ استحقاق ترمیمی ایکٹ فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورت دیگر اس کے اثرات ختم کرنا مشکل ہوگا۔
اختیار ولی نے احتساب کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کریں۔


