واشنگٹن (لارڈ میڈیا) امریکی حکام نے بھارتی جرائم پیشہ گروہ بشنوئی گینگ کے سربراہ لارنس بشنوئی پر کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کیس میں فرد جرم عائد کردی ہے۔ حکام کے مطابق بشنوئی اور اس کے دوست ستندر جیت سنگھ عرف گولڈی برار پر 2023 میں نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ بشنوئی جیل میں ہے جبکہ برار تاحال گرفتار نہیں ہوا۔
فرد جرم کے مطابق بشنوئی نے اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے بھارتی جیل سے کارروائی کی ہدایات دیں اور نجر کی تصویر اور پتے فراہم کیے۔ امریکی اٹارنی بل ایسیلی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ فرد جرم ایک بین الاقوامی آپریشن کا حصہ ہے، جس میں امریکا، کینیڈا اور یورپ کی ایجنسیوں نے مل کر 37 ملزمان کو گرفتار کیا۔
پریس کانفرنس میں ایف بی آئی، لاس اینجلس پولیس اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے حکام بھی موجود تھے۔ ایف بی آئی کے لاس اینجلس فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرینڈی نے کہا کہ ان گروہوں نے کیلیفورنیا اور دیگر علاقوں میں مشرقی بھارتی کمیونٹی میں تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دیا۔
حکام کے مطابق اب بھی 10 مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے، جن میں سے ایک یورپ، 7 امریکا اور 2 بھارت میں موجود ہیں۔ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کینیڈا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں۔


