ماسکو (لارڈ میڈیا): روس نے پنجاب سے آلو کی درآمد پر پابندیاں ختم کر کے 101 پاکستانی برآمد کنندگان کو 7 جولائی سے برآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کو پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا اور ملک کو زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
پاکستان کے تجارتی افسر برائے ماسکو کے مطابق روسی حکام نے پاکستان کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے فراہم کردہ قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری نظام کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ روسی فیڈرل سروس برائے ویٹرنری و فائیٹو سینیٹری نگرانی نے پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
روس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت پاکستان کی فراہم کردہ فائیٹو سینیٹری ضمانتوں کی بنیاد پر دی ہے۔ روسی حکام نے پاکستانی برآمد کنندگان کی فہرست اور برآمدی مقدار کا جائزہ لینے کے بعد 101 کمپنیوں کو کلیئر قرار دیا جبکہ دو کمپنیوں کو بدستور برآمدات کی اجازت نہیں دی گئی۔
روسی حکام نے یاد دلایا کہ اپریل میں تین پاکستانی برآمد کنندگان کو محدود پیمانے پر برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔ پاکستانی تجارتی مشن نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے درخواست کی ہے کہ روسی فیصلے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
روس نے مئی 2025 میں پنجاب سے آلو کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بعض کھیپوں میں پوٹیٹو ٹیوبر موتھ اور ٹماٹو ولٹ وائرس کی موجودگی تھی۔ پاکستان نے بعد ازاں روسی حکام کو کیڑوں و بیماریوں سے پاک فصل کے ثبوت فراہم کیے، جس کے بعد روس نے پاکستانی فائیٹو سینیٹری نظام پر اطمینان کا اظہار کیا۔
پاکستان میں اس سال آلو کی ریکارڈ پیداوار تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن رہی ہے، جس میں سے 40 لاکھ ٹن اضافی پیداوار برآمد کے لیے دستیاب ہے۔ ماہرین کے مطابق روسی منڈی دوبارہ کھلنے سے اضافی ذخائر کی کھپت ممکن ہوگی، مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام آئے گا اور ملکی برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ حاصل ہوگا۔


