ہوماہم ترینپاکستانی طلبہ کا چین کے شمالی صوبے میں ڈیجیٹل ورثے کے تحفظ...

پاکستانی طلبہ کا چین کے شمالی صوبے میں ڈیجیٹل ورثے کے تحفظ کی ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ

تائی یوآن (شِنہوا) پاکستان، نائیجیریا اور ایران سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 بین الاقوامی طلبہ نے چین کے شمالی صوبے شنشی میں واقع تائی یوآن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں منعقدہ بین الاقوامی ثقافتی ورثہ تحفظ ورکشاپ میں شرکت کی جہاں انہوں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے چین کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا عملی طور پر مشاہدہ کیا۔
یہ سرگرمی یونیورسٹی کے بین الاقوامی ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے ہفتہ کا حصہ تھی، جس میں غیر ملکی طلبہ اور یونیورسٹی کی ڈیجیٹل ثقافتی ورثہ تحقیقی ٹیم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تاکہ ثقافتی نوادرات کے ڈیجیٹل تحفظ میں جدید تکنیکی طریقوں اور عملی کامیابیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یونیورسٹی کی ڈیجیٹل ورثہ لیبارٹری میں شرکاء نے انٹرایکٹو ڈسپلے پر فی ہونگ پگوڈا کی ڈیجیٹل ازسرنو تشکیل دیکھی، شنشی صوبے کی حہ شون کاؤنٹی کی یون لونگ شان غاروں اور ہیبے صوبے کے شہر ہاندان میں واقع شیانگ تانگ شان غاروں کی تھری ڈی پرنٹ شدہ نقول کا معائنہ کیا، جبکہ سی اے وی ای ورچوئل نمائشوں اور انٹرایکٹو تنصیبات کا بھی تجربہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دورے کے بعد ڈیجیٹل ثقافتی ورثہ تحقیقی ٹیم کے محققین نے شنشی کے بھرپور ثقافتی ورثے کی مثالوں کے ذریعے تھری ڈی لیزر سکیننگ اور متعدد تصاویر پر مبنی سہ جہتی تعمیر نو سمیت اہم ٹیکنالوجیز کا تعارف کرایا۔
انہوں نے ڈیجیٹل دستاویز بندی کے طریقہ کار اور اس کی اہمیت کی وضاحت کی جس کے بعد طلبہ کو 3 گروپوں میں تقسیم کرکے عملی تربیت دی گئی، جہاں انہوں نے تھری ڈی سکیننگ، ہائپر سپیکٹرل امیجنگ اور متعدد تصاویر کی مدد سے تھری ڈی تعمیر نو کی تکنیکوں کی مشق کی۔
اس عملی اور جامع تجربے نے بین الاقوامی طلبہ کو ثقافتی ورثے کے ڈیجیٹل تحفظ کے لئے چین کی کوششوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ انہیں اپنے اپنے ممالک میں بھی ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر غور کرنے کی ترغیب ملی۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ بشیر اقرا نے کہا کہ ان کے ملک میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال ابھی وسیع پیمانے پر نہیں ہو رہا اور اس حوالے سے چین کا تجربہ مقامی تاریخی مقامات اور مجسموں کے تحفظ کے لئے نہایت مفید رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اس ٹیکنالوجی کی اہمیت فنون لطیفہ کے شعبے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کے کئی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر اطلاقات موجود ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی بدولت ثقافتی نوادرات وقت اور جغرافیائی حدود کی قید سے آزاد ہو کر دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں اور انہیں ہر جگہ سراہا اور دیکھا جا سکتا ہے۔”

پاکستانی طلبہ ڈیجیٹل ورثے کے تحفظ میں استعمال ہونے والے آلات کے استعمال کا طریقہ سیکھ رہے ہیں۔(شِنہوا)

ورکشاپ میں پیش کی جانے والی یہ ٹیکنالوجیز یونیورسٹی کی ڈیجیٹل ثقافتی ورثہ تحقیقی ٹیم کی ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط تحقیق کا نتیجہ ہیں۔
یونیورسٹی کے کالج آف آرکیٹیکچر اینڈ آرٹ کے نائب ڈین گاؤ یونگ لی نے بتایا کہ ٹیم کی تحقیق بنیادی طور پر شنشی کے غاروں اور دیواروں پر نقوش کے تحفظ پر مرکوز ہے تاہم اس میں غیر مادی ثقافتی ورثہ، قدیم تعمیرات اور دیگر ثقافتی اثاثے بھی شامل ہیں۔
گاؤ کے مطابق شنشی کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے متعدد غاروں سے تعلق رکھنے والے کئی مجسمے بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ مسلسل ڈیجیٹل دستاویز بندی سے ملک کے اندر تحقیقی ریکارڈ کو مکمل کرنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے چین میں جمع کئے گئے ڈیجیٹل ڈیٹا کا بیرون ملک محفوظ اصل نوادرات سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، جس سے ثقافتی تحقیق میں موجود اہم خلا پر ہوتے ہیں۔
گاؤ نے کہا کہ "ہم چھوٹے اور نسبتاً کم معروف ثقافتی نوادرات کے ڈیجیٹل تحفظ، تشہیر اور نمائش کے لئے خصوصی حل پر بھی تحقیق کر رہے ہیں، تاکہ ایسے عملی طریقہ کار فراہم کئے جا سکیں جو عالمی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں۔”
یونیورسٹی کے کالج آف آرکیٹیکچر اینڈ آرٹ کے پروفیسر ژانگ شیاؤ نے کہا کہ ثقافتی ورثہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے اور اس کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ژانگ نے کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ اس پروگرام میں شریک بین الاقوامی طلبہ یہاں سیکھی گئی ڈیجیٹل تحفظ کی ٹیکنالوجیز اپنے اپنے ممالک میں لے جائیں گے اور انہیں مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے بروئے کار لائیں گے۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں