نان ننگ (شِنہوا) چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خود مختار علاقہ کے ایک گاؤں میں برطانیہ کے سفری بلاگر الیگزینڈر چارلس ڈگلس شارٹ اور آئرلینڈ کے لیوک وین او فیرل نے مقامی کسانوں کے روزمرہ کے سخت مشقت والے چنبیلی کے پھول چننے کے کام میں غیرمعمولی دلچسپی اور لطف محسوس کیا۔
50 سالہ کسان لی شوئی پنگ نے جان بوجھ کر آہستہ آہستہ اپنا کام انجام دینے کا مظاہرہ کیا اور بتایا کہ اسے اس طرح چٹکی سے پکڑیں، تھوڑا گھمائیں اور پھول الگ ہو جائے گا، پھر آپ اسے اپنی کمر سے بندھے کپڑے کے تھیلے میں ڈال لیں۔
الیگزینڈر جو چین میں عام پیش کئے جانے والے چنبیلی کے ذائقے والے مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، نے کہا کہ بہت سے سیاح دیہی ماحول کا مشاہدہ کرنے کے لئے آتے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ اصل چین کیسا ہے۔ اس کا اصل منبع دیکھنا اس تجربے کو واقعی معنی خیز بناتا ہے۔
الیگزینڈر اور لیوک ہی نہیں بلکہ چین کی ویزا کے بغیر داخلے کی پالیسیوں کے تحت آنے والے بین الاقوامی سیاح کثیر تعداد میں دیہی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جو کبھی غربت، تنہائی اور فلش ٹوائلٹ جیسی جدید سہولیات کے فقدان کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
بیجنگ، شنگھائی اور چھونگ چھنگ جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہروں کی سیر کرنے کے بعد اب زیادہ غیر ملکی سیاح دیہی علاقوں کی زرعی ثقافت اور روایتی ماحول دیکھنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ چین کی انسداد غربت مہم اور جاری دیہی احیا کے منصوبوں کے نتیجے میں بہتر ریل نیٹ ورک، 5 جی انٹرنیٹ سہولیات اور سیاحوں کے لئے سازگار ماحول نے اب دیہی علاقوں تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔
قومی امیگریشن انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چین میں غیر ملکی شہریوں کی ویزا کے بغیر داخلے کی بنیاد پر آمد کی تعداد 83 لاکھ 20 ہزار ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29.3 فیصد زائد ہے۔ 2025 میں چین میں 15 کروڑ سے زائد غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کی نسبت 17 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔


