بیجنگ (شِنہوا) چین تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کے باعث وجود میں آنے والی نئی ملازمتوں کے پیش نظر 12 نئے پیشوں کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جن میں ڈیجیٹل ٹوئن انجینئرز، مجسم انٹیلی جنس روبوٹ ٹیکنیشن اور کھیلوں کے ڈیٹا تجزیہ کار شامل ہیں۔
چین کی وزارت انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے ایک نوٹس کے مطابق ملک موجودہ پیشوں کے تحت کئی نئی مہارتیں بھی شامل کرے گا جن میں کم بلندی کی حامل نقل و حمل کے آپریٹرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹ ڈویلپرز، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے انسپکٹرز اور عمر
رسیدہ افراد کے لئے موزوں تزئین و آرائش کے ڈیزائنرز شامل ہیں۔
یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین ابھرتی ہوئی صنعتوں کی تیز رفتار توسیع، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے وسیع استعمال اور خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے جنم لینے والی معاشی تبدیلی کے مطابق اپنی افرادی قوت کو ڈھالنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ 2019 سے اب تک وزارت 7 مرحلوں میں نئے پیشوں کا اعلان کر چکی ہے جس کے بعد تسلیم شدہ نئے پیشوں کی مجموعی تعداد 110 ہو گئی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کی بنیادی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت کا حجم 12 کھرب یوآن (تقریباً 176.35 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر چکا ہے۔ گزشتہ 5 برسوں کے دوران سرکاری طور پر تسلیم کئے گئے 72 نئے پیشوں میں سے 20 سے زائد کا تعلق مصنوعی ذہانت سے ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے آئی چین کی لیبر مارکیٹ کی تشکیل نو میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے مطابق ملک ڈیجیٹل معیشت، ماحول دوست معیشت اور سلور اکانومی جیسے شعبوں میں نئے پیشوں کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع میں مزید اضافہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
وزارت نے بتایا کہ عوامی مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد مجوزہ نئے پیشوں کو ملک کی سرکاری پیشہ ورانہ درجہ بندی میں شامل کر لیا جائے گا جس کے بعد ان شعبوں سے وابستہ افراد متعلقہ قومی پالیسیوں اور معاونتی اقدامات سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں گے۔


