اسلام آباد (لارڈ میڈیا): عالمی بینک نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ کے وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کرے۔ اس نے مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) معاہدے پر نظرثانی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایف سی کے تحت محاصل کی تقسیم کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، تاکہ خدماتِ عامہ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھانے والے صوبوں کو زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاق کے محاصل میں حصہ کم ہوا لیکن اخراجات میں اسی تناسب سے کمی نہیں آ سکی۔ رپورٹ کے مطابق، متعدد وزارتیں صوبوں کو منتقل کی گئیں لیکن ان کے متبادل وفاق میں بھی برقرار رہے، جس کے باعث وفاقی مالی خسارہ بڑھتا رہا۔
عالمی بینک نے نشاندہی کی ہے کہ صوبائی حکومتیں خدماتِ عامہ کے مقابلے میں انتظامی امور پر زیادہ اخراجات کر رہی ہیں۔ صوبائی محاصل کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات کی نذر ہو رہا ہے، جبکہ اہم شعبے جیسے ماحولیات اور صحت نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زرعی آمدن پر مؤثر ٹیکس نہ ہونے کے باعث محصولات متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی بینک نے وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
دریں اثنا، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے عالمی بینک کے مطالبات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے اور مالیاتی وفاقیت کا ڈھانچہ آئین کا حصہ ہے۔


