جکارتہ (لارڈ میڈیا): انڈونیشیا کی عدالت نے گوجیک کمپنی کے شریک بانی اور سابق وزیر تعلیم ندیم مکرم کو کروم بک لیپ ٹاپ خریداری میں بدعنوانی کے مقدمے میں 10 سال قید اور 809 ارب انڈونیشین روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ندیم مکرم نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق اگر ندیم مکرم جرمانے کی ادائیگی میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں مزید 5 سال قید کا سامنا ہوگا۔ مزید ایک ارب انڈونیشین روپیہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر 190 دن کی اضافی قید بھی ہوگی۔
مقدمہ 2021 اور 2022 کے دوران انڈونیشیا کی وزارت تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے لیے کروم بک لیپ ٹاپ کی خریداری سے متعلق تھا۔ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ ندیم مکرم نے گوگل حکام کے ساتھ خریداری کے معیار کو اس طرح مرتب کیا کہ صرف گوگل کے کروم او ایس پر مبنی لیپ ٹاپ ہی اہل قرار پائیں۔
عدالت نے کہا کہ ندیم مکرم نے ذاتی طور پر سرکاری رقم کا استعمال نہیں کیا، مگر ان کے فیصلوں میں مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔ ندیم مکرم کا مؤقف تھا کہ گوگل کی گوجیک میں سرمایہ کاری کا خریداری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
فیصلے کے بعد ندیم مکرم نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ مقدمے نے انڈونیشیا میں سیاسی بحث کو جنم دیا، جہاں قانونی ماہرین نے شواہد کو کمزور قرار دیا ہے۔
نادیم مکرم نے 2019 میں گوجیک چھوڑ کر وزیر تعلیم کا منصب سنبھالا تھا۔ گوجیک جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔


