ارمچی (شِنہوا) نویں چین-یوریشیا نمائش میں قائم پاکستان کے قومی پویلین نے بڑی تعداد میں مہمانوں اور کاروباری برادری کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ یہ پویلین ٹیکسٹائل، زراعت، لاجسٹکس اور دیگر اہم شعبوں میں ملک کی متحرک صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی) کے تحت ترقی اور روابط کے مشترکہ وژن کی بھی عکاسی کر رہا ہے۔
رنگ برنگے ہاتھ کے بنے قالینوں، چمکتے ہوئے قیمتی پتھروں اور نفیس نقش و نگار سے مزین لکڑی کے فرنیچر سے آراستہ یہ پویلین اس نمائش کے مقبول ترین مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ نمائش 26 سے 30 جون تک چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کے دارالحکومت ارمچی میں جاری ہے۔
پاکستانی کمپنی ایف بی انٹرپرائزز کے نمائش کنندہ عبدالباسط خان نے اپنے ڈسپلے سٹینڈ پر رکھے قیمتی پتھر کے ایک شاہکار کو احتیاط سے صاف کرتے ہوئے کہا کہ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ میری گزشتہ آمد کے بعد یہاں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔” وہ 2015 اور 2016 میں بھی اس نمائش میں شرکت کر چکے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی بعد دوبارہ اس خطے میں آنے والے عبدالباسط خان نے کہا کہ اب یہ نمائش پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیشہ ورانہ اور کاروبار پر مرکوز ہو چکی ہے۔ پاکستانی سفارت خانے اور مقامی حکام کے تعاون سے نمائش کنندگان کو چینی کمپنیوں اور سرکاری نمائندوں کے ساتھ پہلے سے طے شدہ کاروباری ملاقاتوں میں شرکت کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم یہاں صرف اپنی مصنوعات فروخت کرنے نہیں آئے بلکہ اس موثر پلیٹ فارم کے ذریعے چین میں طویل المدتی کاروباری شراکت داریاں قائم کرنا بھی ہمارا مقصد ہے۔”
کاروباری مواقع میں توسیع کی یہی امید دیگر پاکستانی نمائش کنندگان میں بھی نمایاں نظر آئی۔
سنکیانگ میں ہونے والی اس نمائش میں پہلی بار شریک ہونے والے پاک انٹرپرائزز کے کامل محمد نے ممکنہ خریداروں کو کمپنی کے جدید چمڑے کے ہینڈ بیگز متعارف کرائے۔انہوں نے کہا کہ "سنکیانگ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو ملانے والا ایک اہم مرکز ہے۔ ہم یہاں پاکستانی قیمتی پتھر، جواہرات اور آم فروخت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ سنکیانگ سے معیاری مشینری اور زرعی آلات بھی درآمد کرنے کے خواہش مند ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں توقع ہے کہ اس نمائش کے ذریعے رواں سال مزید بڑے پیمانے کے تجارتی آرڈرز حاصل ہوں گے۔”

نویں چین-یوریشیا نمائش کے دوران مہمان پاکستانی پویلین میں مصنوعات کا انتخاب کر رہے ہیں۔(شِنہوا
لاجسٹکس بھی دونوں ممالک کے مابین تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
لاجسٹکس سروس ایریا میں پاکستان کی نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کی چائنہ برانچ کے بوتھ نے بہت سے مہمانوں کی گہری دلچسپی حاصل کی۔ کمپنی نے باقاعدہ طور پر 2025 میں چائنہ (سنکیانگ) پائلٹ فری ٹریڈ زون کے علاقے کاشی میں اپنی موجودگی قائم کی تھی۔ این ایل سی چائنہ کے بزنس منیجر علیم جان مجیت نے کہا کہ "خنجراب پاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے زمینی لاجسٹکس کا ایک مضبوط راہداری نظام قائم کیا ہے۔ ہماری مسابقتی برتری اس زمینی ٹرانسپورٹ میں ہے جو پاکستان کو ازبکستان، روس اور دیگر ممالک سے جوڑتی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ کمپنی اس نمائش میں اپنی ون سٹاپ سرحد پار ٹرانسپورٹ سروسز کو فروغ دے رہی ہے، جس کا مقصد سنکیانگ کی منفرد سرحدی گزرگاہوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو بروئے کار لاتے ہوئے برآمدی سامان کی تیز اور موثر ترسیل کو آسان بنانا اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
پاکستان اس سال پاک-چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ‘ اعزازی مہمان’ کے طور پر نمائش میں شرکت کر رہا ہے۔ چین میں پاکستانی سفارت خانے کے اتاشی برائے تجارت و سرمایہ کاری ایاز محمد نے کہا کہ "ہم اس نمائش کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور وسیع تر تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور اپنے کاروباری نیٹ ورکس کو بڑھانے کے لئے ہم نے 17 معروف اداروں کا احتیاط سے انتخاب کیا ہے۔”
پاکستان سے نیوز نیٹ ورک انٹرنیشنل کے خصوصی نمائندے یاسر حبیب خان، جو تیسری بار اس نمائش کی کوریج کر رہے ہیں، نے کہا کہ اس سال کے ایونٹ میں بہت سی نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور پہلی بار شرکت کرنے والے ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ پیشرفت یوریشیائی تعاون کے لئے نئی توانائی اور مواقع کو ظاہر کرتی ہے۔”
نویں چین-یوریشیا نمائش میں 49 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی، جبکہ 27 ممالک اور خطوں نے اپنے قومی پویلین قائم کئے۔ اس کے علاوہ 3 ہزار سے زائد ملکی و غیر ملکی ادارے اور کمپنیاں بھی اس نمائش میں شریک ہوئیں۔


