ہومتازہ ترینچین کی "جبری مشقت" کے بہانے محصولات کے ناجائز استعمال کی مذمت

چین کی "جبری مشقت” کے بہانے محصولات کے ناجائز استعمال کی مذمت

جنیوا (شِنہوا) چین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں سیشن میں تقریباً 20 ممالک کے ایک گروپ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان پیش کیاہے جس کا مقصد "جبری مشقت” کے بہانے یکطرفہ محصولات عائد کرنے کے جارحانہ طریقہ کار کو بے نقاب اور اس کی مذمت کرنا تھا۔

یہ مشترکہ بیان جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور سوئٹزرلینڈ میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لئے چین کے مستقل مندوب اور سفیر جیا گوئی دے نے پیش کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غربت کے خاتمے کا انحصار ہر فرد کے حق روزگار اور حق ترقی کے تحفظ پر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم جبری مشقت کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ تاہم اس بات پر بھی شدید تشویش رکھتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ بعض معیشتوں پر یکطرفہ الزامات کی بنیاد پر اضافی محصولات عائد کئے جائیں، جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ نام نہاد جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکام رہی ہیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نام نہاد انسداد جبری مشقت کے اقدامات کی آڑ میں من مانے انداز میں ٹیرف عائد کرنا محنت کشوں کے حق ترقی اور باعزت روزگار کے حق کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسی پالیسیاں عالمی صنعتی و سپلائی چینز کو غیر مستحکم کرتی ہیں اور غربت کے خاتمے کی اجتماعی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔

مشترکہ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ چین متعلقہ ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حقائق کا احترام کریں، تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ نہ دیں اور انسانی حقوق کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز کریں، بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کا احترام کریں اور عملی اقدامات کے ذریعے عالمی ترقی میں کردار ادا کریں۔

جیا نے بتایا کہ اس مشترکہ بیان کو وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی ہے، روس، پاکستان، وینزویلا، سوڈان، کمبوڈیا اور دیگر ممالک نے اس کی مشترکہ توثیق کی ہے اور کئی ترقی پذیر ممالک نے چین کے موقف کی تائید کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں