واشنگٹن (شِنہوا) وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس سے ایران جنگ کے اخراجات اور چند دیگر پروگراموں کے لئے 87.6 ارب امریکی ڈالر کی منظوری طلب کی ہے۔ یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک روز قبل سینیٹ نے ایران سے متعلق جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی کے خلاف علامتی احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے ایوان نمائندگان کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اس درخواست کا زیادہ تر حصہ آپریشن ایپک فیوری (او ای ایف) سے متعلق فوری ضروریات پوری کرنے کے لئے مختص ہوگا جبکہ اس کے علاوہ وسطی افریقہ میں ایبولا کی وبا سے نمٹنے اور امریکی کسانوں کی معاونت جیسی اہم ضروریات بھی شامل ہیں۔
درخواست کا بڑا حصہ، یعنی تقریباً 70 ارب ڈالر پینٹاگون کو فراہم کیا جائے گا تاکہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران آنے والے اخراجات پورے کئے جا سکیں۔ ان میں فوجی اہلکاروں اور تیاریوں کے اخراجات، استعمال شدہ عسکری ذخائر کی بحالی، خفیہ پروگراموں کی فنڈنگ اور دیگر اہم مصارف شامل ہیں۔
اس پیکیج میں امریکی کسانوں کے لئے 11 ارب ڈالر اور افریقہ میں ایبولا کی وبا سے نمٹنے کے لئے 1.4 ارب ڈالر بھی مختص کئے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے گرد و نواح میں جاری بحالی اور تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے 50 کروڑ ڈالر جبکہ نیویارک شہر کے پین سٹیشن کی تزئین و آرائش کے لئے ایک ارب ڈالر کی بھی درخواست کی ہے۔
تاہم اس نئے مالیاتی پیکیج کو منظوری کے لئے سخت مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون ساز ایک ایسی جنگ پر مزید بھاری اخراجات کی مخالفت کر رہے ہیں جو عوام میں غیر مقبول سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ایران سے متعلق جنگی اختیارات کی ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران میں مزید فوجی کارروائیوں کا آغاز نہیں کر سکیں گے۔ فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایسی کوئی قرارداد کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں ان چار ریپبلکن سینیٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جنہوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں "ناکام لوگ” قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے لیکن میں اسے کسی نہ کسی طریقے سے مکمل کر کے رہوں گا۔


