ہومتازہ ترین’’شاپوتو‘‘ صحرائی زمین کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں چین کی کامیابی...

’’شاپوتو‘‘ صحرائی زمین کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں چین کی کامیابی کی نمایاں مثال

بدھ کے روز صحرائی پھیلاؤ اور خشک سالی کے خلاف عالمی دن منایا گیا۔

’شاپوتو‘ سیاحتی علاقہ چین کے شمال مغربی خودمختار علاقے ننگ شیا ہوئی کے شہر ژونگ وے میں واقع ہے۔ اس سیاحتی علاقے کو ’شاپوتو‘ کا نام ان ریت کے ٹیلوں کی وجہ سے دیا گیا جو کبھی 100 میٹر سے زیادہ بلند ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صحرا، دریائے زرد، پہاڑ اور نخلستانی مناظر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

چین میں سیاحتی مقامات کے لئے قومی ’فائیو اے لیول‘ کے اعلیٰ ترین درجہ کے حامل اس سیاحتی مقام پر اب ریت پر پھسلنے اور صحرائی ریسنگ جیسی سرگرمیاں مقامی لوگوں اور سیاحوں کو منفرد تجربات فراہم کرتی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژو وین جون، اہلکار، شاپوتو سیاحتی علاقہ

"گزشتہ برس ’شاپوتو‘ سیاحتی علاقے میں 15 لاکھ سیاح آئے تھے جبکہ اس سے تقریباً 45 کروڑ یوآن (تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر) آمدن ہوئی۔ یہ علاقہ صحرائی پھیلاؤ پر قابو پانے اور ماحولیاتی بحالی سے لے کر ثقافتی سیاحت کے فروغ اور اب مقامی خوشحالی تک ایک طویل سفر طے کر چکا ہے۔”

شاپوتو کی کامیابی دراصل چین کی اُن وسیع قومی کوششوں کا حصہ ہے جن میں تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام بھی شامل ہے۔ یہ پروگرام کئی دہائیوں پر محیط شجرکاری کا ایک طویل مدتی منصوبہ ہے جس کا آغاز سال 1978 میں کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت چین کے شمالی خشک علاقوں میں صحرائی پھیلاؤ سے متاثرہ وسیع رقبے کو بحال کیا گیا ہے۔ سال 2025 کے اختتام تک بحال کی گئی زمین کا مجموعی رقبہ 3 لاکھ 36 ہزار مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا تھا جو ایک اندازے کے مطابق جرمنی کے رقبے کے برابر ہے۔

اس بڑے منصوبے کے تحت چین کے وسیع شمال مغربی، شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں لاکھوں افراد نے شجرکاری، ریت پر قابو پانے اور گھاس کے میدانوں کی بحالی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): تانگ شی مِنگ، جنگلاتی انجینئر، ننگ شیا

’’یہ ہمارا خاص طور پر تیار کیا گیا ٹول ہے جو بھوسے کے ’چیکر بورڈ‘ بچھانے کے لئےاستعمال ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعے ہم پیمائش بھی کرتے ہیں کیونکہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک یہ ٹھیک ایک میٹر لمبا ہوتا ہے۔ ذرا اس بھوسے کو دیکھیں جو میں نے ابھی بچھایا ہے۔ہم اسے ریت میں 10 سے 15 سینٹی میٹر تک گاڑتے ہیں اور کم از کم 15 سینٹی میٹر حصہ سطح کے اوپر رہنے دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اسے مناسب گہرائی تک نہ لگائیں تو بھوسے کے یہ گٹھے مضبوطی کے ساتھ باہم مربوط نہیں ہو پاتے۔ لیکن جب انہیں درست گہرائی تک نصب کیا جائے تو یہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بھوسے کی ایسی رکاوٹ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو ہوا کے ساتھ اڑنے والی ریت کو مؤثر طریقے سے روکتی ہے۔

یہاں ریت پر قابو پانے کا عمل دو بنیادی مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ ریت کو مستحکم کرنا اور دوسرا اس کی بحالی۔ یہ دونوں مراحل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جہاں تک پہلے مرحلے یعنی استحکام کا تعلق ہےہم اپنے اصل ایک میٹر بائی ایک میٹر کے بھوسے والے چیکر بورڈ استعمال کرتے ہیں جنہیں ریت کے متحرک ٹیلوں پر بچھایا جاتا ہے تاکہ ریت اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم رہے اور اسے بہنے یا اڑنے سے روکا جا سکے۔ جب ریت مستحکم ہو جاتی ہے تو ہم ایسے جھاڑیاں اور گھاس والے پودے لگاتے ہیں جو شدید خشک سالی برداشت کر سکتے ہیں۔ ان پودوں کی جڑوں کا زیرِ زمین پھیلا ہوا وسیع جال ریت کو اپنی جگہ مضبوطی سے جکڑے رکھتا ہے۔‘‘

اِن چھوان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں