ہومانٹرنیشنلجی 7 سربراہ اجلاس کا بڑے پیمانے پر احتجاج کے سائے میں...

جی 7 سربراہ اجلاس کا بڑے پیمانے پر احتجاج کے سائے میں آغاز

ایویان، فرانس (شِنہوا) گروپ آف سیون (جی 7) کا سربراہ اجلاس فرانس کے مشرقی ٹاؤن ایویان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے سائے میں شروع ہوا۔

اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق 3 روزہ سربراہ اجلاس میں روس-یوکرین تنازع، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، متوازن اور پائیدار اقتصادی ترقی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی سمیت کئی اہم امور پر غور کیا جائے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فرانس یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے کے لئے اس اجلاس کے دوران اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایویان پہنچ گئے ہیں۔

سربراہ اجلاس سے قبل جنیوا میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ یہ مظاہرہ "نو جی 7” نامی اتحاد جس میں کئی گروپ اور تنظیمیں شامل تھیں کی طرف سے منظم کیا گیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ فسطائیت اور سامراج کے خلاف مزاحمت کی ایک کوشش ہے۔

فرانسیسی اخبار ‘لے موند’ نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 20 ہزار مظاہرین نے احتجاج میں حصہ لیا۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان متعدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

جنیوا کے پرانے شہری علاقے میں مصروف تجارتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کے قریب واقع کچھ دکانوں کو گزشتہ ہفتے سے ہی لکڑی کے تختے لگا کر بند کرنا پڑا تھا اور صرف تنگ داخلی راستہ چھوڑا گیا تاکہ احتجاج کے دوران لوٹ مار یا توڑ پھوڑ سے بچا جا سکے۔

2003 میں جب جی 7 سربراہ اجلاس پہلی بار ایویان میں منعقد ہوا تھا تب بھی جنیوا میں بڑے پیمانے پر ہنگامے ہوئے تھے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں