تیونس (شِنہوا) تیونس کے ایک سیاحتی عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک کی سیاحت کی صنعت چینی مارکیٹ میں وسیع امکانات رکھتی ہے اور مستقبل میں ترقی کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔
شنگھائی میں منعقد ہونے والے چینی سفری منڈی پر مرکوز ایک سفری تجارتی میلے آئی ٹی بی چائنہ2026 کے حوالے سے چین میں تیونس کے قومی سیاحتی دفتر کے چیف نمائندے انوار چیتوئی نے کہا کہ یہ ایونٹ تیونس کے لئے چین کے ساتھ سیاحتی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔
انوار چیتوئی نے کہا کہ تیونس چینی سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لئے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ویزا فری پالیسی چینی سیاحوں کی آمد میں اضافے کا ایک اہم محرک ثابت ہوئی ہے جس نے سفر کو نمایاں طور پر آسان بنایا ہے اور سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیونس نے 2025 میں تقریباً 28 ہزار چینی سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 19.3 فیصد اضافہ ہے اور 2026 میں بھی یہ رجحان برقرار ہے۔
چیتوئی نے شِنہوا کو بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے تیونس نے مختلف اقدامات شروع کئے ہیں جن میں چینی میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو مدعو کرنا، ٹریول ایجنسیوں کے لئے کاروباری دوروں کا اہتمام اور ٹور آپریٹرز اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ تقریبات شامل ہیں۔
چیتوئی نے مزید کہا کہ تیونس کے سیاحوں میں بھی چین کے بارے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اور ٹریول ایجنسیاں اپنے ٹور پیکجز میں چین کو تیزی سے شامل کر رہی ہیں۔


