تہران (شِنہوا) ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر تازہ امریکی حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو عملاً بے معنی بنا دیا ہے۔
وزارت نے جمعرات کے روز ایک بیان میں مختلف علاقوں میں ہونے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت ان انتہائی خطرناک نتائج کی ذمہ دار ہے جو ان نئے حملوں کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکہ کے جرائم اور وسیع پیمانے پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں اور اس نے قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا کے بعض ممالک کے علاقوں اور تنصیبات کو امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ حملوں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے وہ ممالک حملہ آوروں کے ساتھ کھڑے تصور ہو سکتے ہیں۔
وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی فطری حق دفاع کے تحت ان جارحانہ حملوں کے منبع کے خلاف کارروائی کرے گا اور خطے کے ممالک کو یاد دلایا کہ ان پر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین، سہولیات اور وسائل کو ایسے حملوں کے لئے استعمال ہونے سے روکیں۔
اس کے ساتھ ہی ایران نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کریں۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے جمعرات کی صبح کہا کہ اس کی افواج نے ایران کے متعدد اہداف کو اس کے بقول ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں نشانہ بنایا ہے۔
امریکی حملوں کے بعد ایران نے سکیورٹی خدشات کے باعث آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا۔
ایران کے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے کہا کہ انہوں نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 8 اپریل کو 40 روزہ لڑائی کے بعد جنگ بندی طے پائی تھی۔ حالیہ ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن نے مبینہ طور پر پاکستان کی ثالثی سے تجاویز کا تبادلہ کیا ہے اور تنازع کے خاتمے کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت پر کام کر رہے ہیں۔


