ہومتازہ ترینبلو بیری توڑنے سے چین کی سمارٹ زراعت تک: پاکستانی طلبا...

بلو بیری توڑنے سے چین کی سمارٹ زراعت تک: پاکستانی طلبا پاک-چین زرعی تعاون کے لئے ‘نئے سفیر’ بننے کے خواہش مند

نان چھانگ (شِنہوا) 24 سالہ پاکستانی طالبہ گل وش پری نے کہا کہ "یہ میرا پہلا موقع ہے کہ میں نے باغ میں جا کر خود اپنی مرضی سے بلو بیریز توڑیں، جس نے مجھے بے حد پرجوش کیا۔”

موسم گرما کے آغاز میں 10 ہزار ایکڑ پر محیط بلو بیری کے باغ میں شاخوں پر رسیلی اور موٹی بلو بیریز بکثرت لٹکی ہوئی تھیں۔ کچھ ہی فاصلے پر کسان سیزن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فصل کی کٹائی، چھانٹی اور پیکنگ میں مصروف تھے۔

بلو بیری کی کٹائی کا سیزن شروع ہوتے ہی ‘جیانگ شی انٹرنیشنل کمیونیکیشن الائنس آف یونیورسٹیز اینڈ کالجز’ کے بین الاقوامی طلبہ نے چین کےمشرقی صوبے جیانگ شی میں ‘ڈونگ تینگ بلو بیری انڈسٹریل پارک’ کا دورہ کیا جو چین کے وسطی صوبے میں بلو بیری کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز ہے۔ مقامی پھل کسانوں کی دعوت پر طلبہ ٹوکریاں اٹھائے بلو بیری کی جھاڑیوں کے درمیان گھومتے رہے، پھل توڑتے اور چکھتے رہے اور ساتھ ہی بلو بیری کی اقسام، کاشت کاری اور ان کی دیکھ بھال کے طریقوں کے بارے میں شوق سے معلومات لیتے رہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک دیہی خاندان سے تعلق رکھنے والی پری نے کہا کہ "یہ میرا پہلا موقع ہے جب میں چین کی جدید زراعت کو اتنے قریب سے دیکھ رہی ہوں۔ اس باغ کا انتظام و انصرام بہت شاندار ہے، جہاں ہر چیز ترتیب وار اور اپنی صحیح جگہ پر موجود ہے۔” وہ اس وقت جیانگ شی ایگریکلچرل یونیورسٹی میں زرعی معاشیات میں ماسٹرز کی طالبہ ہیں۔

پری کے والد ایک کسان ہیں اور ان ہی سے متاثر ہو کر بچپن سے ہی زراعت میں ان کی گہری دلچسپی پیدا ہوئی۔ پری نے بتایا کہ "کھیت وہ جگہ ہے جہاں میرے والد پسینہ بہا کر کام کرتے ہیں اور یہی وہ جگہ بھی ہے جہاں میرے خوابوں نے جنم لیا۔ میرے والد چین میں زرعی معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے میں میری حمایت کرتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ میں اپنی حاصل کردہ معلومات کو مستقبل میں پاکستان کی زرعی ترقی کے لئے استعمال کروں۔”

پاکستانی طلبہ جیانگ شی کے شہر فوژو میں بلو بیری پروسیسنگ کے ایک ادارے میں بلو بیری کی تیاری و پیکنگ کے عمل کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

مقامی کسان نے بتایا کہ "بلو بیریز نازک پھل ہیں، اس لئے گودے کی مٹھاس اور سالمیت کو جتنا ممکن ہو برقرار رکھنے کے لئے عام طور پر انہیں ہاتھ سے توڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔” جیانگ شی ایگریکلچرل یونیورسٹی میں فصلوں کی جینیات اور افزائشِ نسل میں پی ایچ ڈی کرنے والے پاکستانی طالب علم محمد انس بلو بیری فارم کے انتظام اور پھل کے معیار سے بے حد متاثر ہوئے۔ انس نے کہا کہ "یہ میرا پہلا موقع ہے کہ میں نے درخت سے تازہ ٹوٹی ہوئی بلو بیری کھائی ہے۔ چین میں بلو بیری کی کاشت کے لئے سازگار مٹی اور موسمی حالات موجود ہیں۔ مقامی کاشتکاروں نے کاشت کاری اور پھل توڑنے کی تکنیک میں اعلیٰ درجے کی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔”

بلو بیری توڑنے کے بعد بین الاقوامی طلبہ نے بلو بیری پروسیسنگ پلانٹ کا دورہ کیا، جدید پروسیسنگ پروڈکشن لائن دیکھی اور بلو بیری سے بنی مصنوعات جیسے کہ خشک بلو بیریز، جیم اور جوس کا ذائقہ چکھا۔ طلبہ نے جدید زراعت میں چین کی سمارٹ اور ماحول دوست ترقی کو خوب سراہا اور چین اور پاکستان کے درمیان مستقبل میں زرعی تعاون کے لئے گہری توقعات کا اظہار کیا۔

انس نے کہا کہ "چین کی زراعت کے بارے میں مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو کس طرح واقعی کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے اور علم کو پھل میں بدلا جاتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ چین نے خاص طور پر جدید مشینری اور سمارٹ زرعی ٹیکنالوجیز کو اپنا کر زرعی تحقیق اور جدیدیت میں نمایاں ترقی کی ہے، جس نے زرعی کارکردگی اور معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "چین کی زرعی ٹیکنالوجی کو پاکستان کے کھیتوں تک پہنچانا ہی میری سب سے بڑی لگن ہے۔”

انس کی طرح جیانگ شی ایگریکلچرل یونیورسٹی میں شجر کاری کے ایک اور پاکستانی پی ایچ ڈی طالب علم نظار نواز نے بھی چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور سازگار تحقیقی ماحول کی وجہ سے یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کیا۔ نواز نے کہا کہ "چین کا زرعی ترقیاتی نظام کافی پختہ ہے۔ ڈرونز جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا کھیتوں کے انتظام میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان اب بھی بنیادی طور پر روایتی کاشت کاری پر انحصار کرتا ہے۔ میں زراعت میں پاک-چین تعاون کے مزید فروغ کا منتظر ہوں تاکہ پاکستان میں زرعی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں