ہومتازہ ترینانسانی بحرانوں میں چینی ریڈکراس کا کردار قابلِ تحسین، امدادی سرگرمیوں میں...

انسانی بحرانوں میں چینی ریڈکراس کا کردار قابلِ تحسین، امدادی سرگرمیوں میں تعاون بڑھائیں گے، صدر آئی سی آر سی

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی صدر میرجانا سپولیارچ ایگر کے مطابق دنیا بھر میں مسلح تنازعات میں اضافے اور جنگ کے قوانین کی کمزور ہوتی پاسداری پر بڑھتی تشویش کے باوجود تنظیم نے انسانی امداد اور بین الاقوامی انسانی قانون کے شعبوں میں چین کے ساتھ اپنے تعاون کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید مضبوط بھی بنایا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) گزشتہ دو دہائیوں سے چین میں اپنا دفتر چلا رہی ہے۔ تنظیم کی صدر میرجانا سپولیارچ ایگر نے شِنہوا کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ چین کے ساتھ تعاون مسلسل مضبوط ہوا ہے۔

ان کے مطابق تنظیم مختلف چینی وزارتوں اور حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہتی ہے۔ یہ رابطے صرف سیاسی سطح پر بین الاقوامی انسانی قانون پر عملدرآمد تک محدود نہیں بلکہ خطے میں ممکنہ فوجی کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی اثرات سے نمٹنے کی تیاریاں بھی اس تعاون کا حصہ ہیں۔

اس تعاون کی جھلک انسانی امدادی کارروائیوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): میرجانا سپولیارچ ایگر، صدر، آئی سی آر سی

”ہم چین میں آئی سی آر سی کا دفتر قائم کر کے گزشتہ 20 برس سے موجود ہیں۔ اس پورے عرصے کے دوران چین کے ساتھ تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔ مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کے ساتھ ہمارا مسلسل اور باقاعدہ رابطہ رہتا ہے۔“

ترکیہ اور شام میں سال 2023 کے تباہ کن زلزلوں کے بعد لبنان سے شام کے اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے سپولیارچ نے کہا کہ انہوں نے چائنہ ریڈ کراس سوسائٹی (آر سی ایس سی) کے کام کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے دوسرے لوگوں میں سے چینی ریڈ کراس کے صدر وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مجھے فون کیا اور انسانی امداد کے محتاج افراد کی مدد کے لئے تعاون کی پیشکش کی۔

آئی سی آر سی اور چائنہ ریڈ کراس سوسائٹی نے سال 2025 میں بھی میانمار میں آنے والے زلزلے کے بعد مل کر کام کیا تھا۔

چین کی قومی ریڈ کراس سوسائٹی ایک انتہائی مضبوط ادارہ ہے جس کے پاس وسیع صلاحیتیں اور لاکھوں رضاکار موجود ہیں جو کسی بھی انسانی بحران کے وقت متحرک ہو جاتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): میرجانا سپولیارچ ایگر، صدر، آئی سی آر سی

”دو سال قبل ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد میں نے خود چینی ریڈ کراس کو اس وقت عملی طور پر کام کرتے دیکھا جب میں لبنان سے شام کی سرحد عبور کر رہی تھی۔ اس موقع پر دیگر افراد کے ساتھ چینی ریڈ کراس کے صدر بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے مجھ سے رابطہ کیا اور انسانی امداد کے محتاج افراد کی مدد کے لئے تعاون کی پیشکش کی۔ اسی طرح ہم نے میانمار میں زلزلے کے بعد بھی چینی ریڈ کراس کے ساتھ مل کر کام کیا۔ لہٰٰذا چین کی قومی ریڈ کراس سوسائٹی ایک انتہائی مضبوط ادارہ ہے جس کے پاس وسیع صلاحیتیں اور لاکھوں رضاکار موجود ہیں جو کسی بھی انسانی بحران کے وقت فوری طور پر متحرک ہو جاتے ہیں۔“

سنگاپور سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں