بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی آئی ٹی) نے 6 جی ٹیکنالوجی کی جدت اور ترقی کے لئے مرکزی-صوبائی تعاون پر مبنی مشترکہ آزمائشی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل میں 6 جی کی تجارتی سطح پر فراہمی کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔
اس پروگرام کی اہم ترجیحات میں جدید 6 جی ٹیکنالوجیز کی ترقی، کمیونیکیشن کو مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور وائرلیس سینسنگ کے ساتھ مربوط کرنا اور 6 جی بیس سٹیشنز کور نیٹ ورک آلات، ٹرمینلز، چپس اور آپریٹنگ سسٹمز پر تحقیق و ترقی کو تیز کرنا شامل ہے۔
آزمائشی علاقوں میں مقامی حالات کے مطابق 6 جی کے عملی استعمال کے نئے طریقے آزمائے جائیں گے، جن میں جامع تجرباتی ابلاغ، صنعتی پیداوار، کم بلندی کی معیشت، مجسم ذہانت اور سمارٹ بحری آپریشنز جیسے شعبے شامل ہوں گے۔
ایم آئی آئی ٹی نے کہا ہے کہ وہ 6 جی کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے گا اور ضرورت کے مطابق آزمائشی منصوبوں میں تبدیلی کرے گا۔ وزارت آئی ایم ٹی-2030 (6 جی) پروموشن گروپ کے ذریعے تکنیکی تجربات کا اہتمام کرے گی اور آزمائشی علاقوں میں بڑے 6 جی صنعتی اجلاسوں کی میزبانی کو ترجیح دے گی۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب چین نیکسٹ جنریشن کی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں اپنی برتری کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین پہلے ہی 5 جی کی ترقی میں عالمی سطح پر قائدانہ حیثیت رکھتا ہے جہاں ملک بھر میں لاکھوں بیس سٹیشنز نصب ہیں اور عالمی 5 جی کنیکشنز میں اس کا بڑا حصہ ہے۔


