آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں ہفتے کے روز غیر ملکی ثانوی سکول طلبہ کے لئے چینی زبان کی مہارت کا مقابلہ ”چائنیز برج“ منعقد ہوا جس میں ملک بھر کے پانچ ڈویژنز سے منتخب 10 طلبہ نے چینی زبان میں اپنی مہارتوں اور صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
آسٹریلیا میں تعینات چین کے سفیر شیاؤ چِیئن اور آسٹریلیا کے وفاقی علاقے کی حکومت کے نمائندے بھی افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): شیاؤ چِیئن، چینی سفیر برائے آسٹریلیا
”ہمارے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک دہائی سے بھی زائد عرصہ ہو گیاہے اور ہمارا یہ تعلق اب دوسرے عشرے میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ تعلق دونوں ممالک اور دونوں اقوام کے مفاد میں ہے۔ ہم سب کا فائدہ اسی میں ہے کہ اس تعمیری، پائیدار اور صحت مند رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ اس تعلق کا مستقبل بڑی حد تک دونوں جانب کے لوگوں کی کوششوں بالخصوص ہماری نوجوان نسل کی سمجھ بوجھ اور دوستی پر بھی منحصر ہے۔“
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کینبرا گرامر سکول کے پرنسپل جسٹن گیرک نے چینی زبان سیکھنے اور چین کے دورے کےحوالے سے اپنے تجربات شیئر کئے۔ انہوں نے شرکا کو چینی زبان کی تعلیم جاری رکھنے اور بین الثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کی ترغیب دی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جسٹن گیرک، پرنسپل، کینبرا گرامر سکول
”کینبرا گرامر سکول کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ تعلیم کے شعبے خاص طور پر زبانوں اور خصوصاً چینی زبان سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ بعض لوگ جانتے ہوں گے کہ ہمارے سب سے مشہور اور بااثر سابق طلبہ میں آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم گوف وٹلم شامل ہیں۔ وہ آسٹریلیا کے واحد وزیراعظم تھے جو کینبرا میں پلے بڑھےاور یہیں تعلیم حاصل کی۔“
یہ مقابلہ سنٹر فار لینگویج ایجوکیشن اینڈ کوآپریشن اور آسٹریلیا میں چینی سفارتخانے کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جبکہ اس کی میزبانی آسٹریلیا کے وفاقی علاقے کی چائنیز لینگویج ٹیچرز ایسوسی ایشن اور آسٹریلین سکول آف کنٹیمپریری چائنیز نے کی۔
فائنل میں پہنچنے والے امیدواروں کا انتخاب پانچ علاقائی ڈویژنز سے کیا گیا تھا۔ ان ڈویژنز میں اے سی ٹی، ناردرن ٹیریٹری اور مغربی آسٹریلیا، نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریہ اور تسمانیہ، کوئنزلینڈ اور جنوبی آسٹریلیا شامل ہیں۔
کینبرا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


