ہومتازہ ترینچین کے خلائی سٹیشن پر چوہے کے جنین کا تجربہ، خلا میں...

چین کے خلائی سٹیشن پر چوہے کے جنین کا تجربہ، خلا میں زندگی کے ارتقا کو سمجھنے میں پیش رفت

شین زین (شِنہوا) شین ژو-22 کے ریٹرن کیپسول کے ذریعے زمین پر واپس لایا گیا چوہے کے جنین کا مواد مستقبل میں طویل المدتی انسانی خلائی قیام کے دوران زندگی کے آغاز سے متعلق تحقیق کے لئے ایک اہم نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کی توقع رکھتا ہے۔

شین ژو-22 گزشتہ ماہ 29 مئی کو چین کے خلائی سٹیشن سے کامیابی کے ساتھ واپس لوٹا تھا۔ چوہے کے اس کلچرڈ ایمبریو مواد کو ان سائنسی نمونوں کے حصے کے طور پر واپس لایا گیا ہے جو چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت شین زین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کی ایک تحقیقی ٹیم کے پروجیکٹ کا حصہ تھا۔

ایس آئی اے ٹی کے مطابق اس تجربے کا مقصد خلائی ماحول میں ممالیہ جانوروں کے قبل از پیوندکاری ایمبریوز کی نشوونما کے نمونوں کا مطالعہ کرنا ہے، جس میں ایمبریوز میں مائٹوکونڈریائی نقصان اور ایپی جینیٹک تبدیلیوں کی خرابیوں کے بنیادی طریقۂ کار کو سمجھنا بھی شامل ہے۔

ایس آئی اے ٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بائیو میڈیسن اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے سنٹر فار انرجی میٹابولزم اینڈ ری پروڈکشن کے سینئر محقق لی شیاؤ ہوا کی سربراہی میں ٹیم نے خلائی سٹیشن پر موجود ایک بائیوٹیکنالوجی تجرباتی کیبنٹ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف مراحل پر چوہے کے ایمبریوز کی مدار میں نشوونما کا عمل انجام دیا۔

لی شیاؤ ہوا نے بتایا کہ "خلائی جہاز کی منتقلی اور مدار میں وسائل کی سخت پابندیوں کے پیش نظر اس تجربے کا اصل چیلنج یہ تھا کہ محدود جگہ کے اندر ایمبریو کی نشوونما اور اس کی اصل وقت میں تصاویر کیسے حاصل کی جائیں۔”

اس ٹیم نے ایس آئی اے ٹی کی ہی ایک اور ٹیم کے ساتھ اشتراک کیا جس کی سربراہی ریسرچ سنٹر فار بائیو میڈیکل آپٹکس اینڈ مالیکیولر امیجنگ کے مین یونگ فان کر رہے تھے۔ دونوں ٹیموں نے مل کر ایک ایمبریو مائیکرو فلوئڈک چپ کلچر باکس ڈیزائن کیا۔ اس باکس میں 6 ،6 کلچر چیمبرز کی 2 قطاریں موجود تھیں۔ اس ڈیزائن نے بیک وقت 2 تجرباتی گروپوں کی ضروریات کو پورا کیا جن میں سے ہر ایک کے 3،3 متبادل تجربات شامل تھے اور یہ خلائی سٹیشن کے خودکار کلچر سسٹم کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا تھا۔

زمین پر تصدیقی تجربات مکمل کرنے کے بعد ٹیم نے خلائی سٹیشن کے لئے موزوں ممالیہ کے پری امپلانٹیشن ایمبریو کلچر، امیجنگ، مائع کے ذریعے نمونے کو محفوظ کرنا اور انتہائی کم درجہ حرارت پر منجمد کرنا کا ایک مکمل تجرباتی نظام قائم کیا۔

ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ مدار میں ایمبریو کی نشوونما کی تصاویر کامیابی سے حاصل کر لی گئی تھیں اور ایمبریو کی نشوونما کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ کرنے کی صورتحال بھی بہترین تھی۔

30 مئی کی علی الصبح شین ژو-22 کے ریٹرن کیپسول سے نکالے گئے لائیو سائنسی تجرباتی نمونوں کو مخصوص ریفریجریشن آلات کے ذریعے بیجنگ میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ سنٹر فار اسپیس یوٹیلائزیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں