دبئی (لارڈ میڈیا): اماراتی حلقوں نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی کی تردید کی ہے، کہا ہے کہ امارات میں کوئی بھی کارروائی رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق ہوتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں، تاہم اماراتی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض اماراتی سوشل میڈیا مبصرین نے رپورٹ میں فرقہ وارانہ پہلو کو مسترد کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ قوانین اور سکیورٹی ضوابط سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔
پاکستان کی وزارت داخلہ نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی پاکستانی شہری کے خلاف کارروائی ہوئی تو اس کا تعلق اماراتی قوانین، ویزا شرائط یا سکیورٹی معاملات سے ہو سکتا ہے۔
امیگریشن ذرائع کے مطابق یو اے ای سے 4 پاکستانی بے دخل کر کے پاکستان بھیجے گئے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای سے 21 پاکستانی ڈی پورٹ کیے گئے اور 112 پاکستانیوں کو کفیلوں کی شکایت پر گرفتار کر کے پاکستان بھیجا گیا۔


