تہران (شِنہوا) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت پر کنٹرول اور نگرانی جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کی مرکزی عسکری کمان خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹرز نے اسی روز آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کی بحالی کا اعلان کیا، جس کی وجہ ایران کے خلاف امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا بتایا گیا۔
ایس این ایس سی نے کہا کہ وہ جہازوں سے معلومات طلب کرنے، گزرنے کے اجازت نامے جاری کرنے، سکیورٹی اور ماحولیاتی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے اور اپنے ضوابط اور جنگی پروٹوکول کے مطابق ٹریفک کو منظم کرنے کے ذریعے آبنائے پر کنٹرول رکھے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن آبنائے سے جہازوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کرے، تو انہیں موجودہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور ملک آبنائے ہرمز کو مشروط اور محدود طور پر دوبارہ کھولنے کے عمل کو روک دے گا۔
ایس این ایس سی نے نشاندہی کی کہ مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں کے لئے درکار سازوسامان کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، جو ایرانی اور علاقائی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جو پاکستان کے ذریعے اس کے آرمی چیف عاصم منیر کے حالیہ دورے کے دوران پہنچائی گئیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا مذاکراتی وفد کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ملک کے مفادات کا دفاع کرے گا۔


