تہران (شِنہوا) ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران مغربی ایشیا میں مکمل امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے تاہم انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ بار بار اپنے وعدے توڑ کر ان کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
قالیباف نے یہ بات پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کہی، جو بدھ کو ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچے تھے۔ یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
قالیباف نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنہوں نے جنگ شروع کی اور اب اسے ختم کرنے کی شدید کوشش کر رہے ہیں، وہ اپنے رویے اور اقدامات کے ذریعے واقعی اپنے ماضی کے عدم اعتماد کو ختم کریں گے۔
انہوں نے جنگ بندی کے حصول اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنازع والے تمام علاقوں میں جامع جنگ بندی کا نفاذ ابتدائی معاہدے کی شرائط میں شامل ہے اور انہوں نے اسلام آباد سے بطور ثالث اس پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے کا مطالبہ کیا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قالیباف نے جمعرات کو اپنے لبنانی ہم منصب نبیہ بری کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ لبنان مغربی ایشیا میں جامع جنگ بندی کا ایک لازمی حصہ ہے اور خطے میں دیرپا امن کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس موقع پر آرمی چیف عاصم منیر نے کہا کہ وہ لبنان میں جنگ بندی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ امریکہ-اسرائیل جنگ کے آغاز کے دن سے پاکستان-ایران سرحد پر کوئی سکیورٹی واقعہ پیش نہ آئے۔
ایک ماہ سے زائد عرصے سے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد امریکہ اور ایران نے 7 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا جس کے بعد ہفتے اور اتوار کی صبح اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان امن مذاکرات ہوئے۔


