ہومانٹرنیشنلٹرمپ کا امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایران کے خلاف "محدود...

ٹرمپ کا امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایران کے خلاف "محدود حملوں” پر غور

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ "امن مذاکرات میں تعطل کو توڑنے” کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں حکام اور صورتحال سے واقف افراد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے چند گھنٹے بعد محدود حملے ان آپشنز میں شامل ہیں جن پر ٹرمپ غور کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق "مکمل پیمانے پر بمباری” کا امکان کم ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور "صدر طویل فوجی تنازعات سے گریز کرتے ہیں۔”

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایک عارضی ناکہ بندی کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں جبکہ ’’وہ اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ مستقبل میں آبنائے میں طویل مدتی فوجی حفاظتی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔‘‘

اس سے قبل اسی روز ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو روکنا شروع کرے گی۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج پیر کو مشرقی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے "ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور باہر جانے والی تمام بحری آمدورفت” کی ناکہ بندی نافذ کرنا شروع کریں گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں