لندن (شِنہوا) برطانیہ آئندہ ہفتے اپنے اتحادیوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لئے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مذاکرات کرے گا، جس میں ایران کو ٹول ادا کئے بغیر بحری آمدورفت کی اجازت دینے پر بات ہوگی۔
رائٹرز نے ایک نامعلوم سرکاری عہدیدار کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانوی وزارت خارجہ کے حکام آئندہ ہفتے ان ممالک کے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے جنہوں نے 2 اپریل کو برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی میزبانی میں ہونے والی ورچوئل اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بات کی گئی تھی۔
عہدیدار کے مطابق ان مذاکرات میں "منظم اقتصادی اور سیاسی اقدامات، بشمول ممکنہ پابندیاں” اور آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ملاحوں کی رہائی جیسے امور شامل ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن سمیت 40 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے 2 اپریل کے اجلاس میں شرکت کی تھی تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ مربوط اقدامات، بشمول سفارتی دباؤ اور اقتصادی و سیاسی پابندیوں پر غور کیا جا سکے۔


