بیجنگ (شِنہوا) چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خود مختار علاقے کے شہر ارمچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان حالیہ غیر رسمی مذاکرات نے ایشیا میں ایک بار پھر امن کے لئے چین کے استحکام لانے کی قوت کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔
یہ مکالمہ نہ صرف موجودہ تنازع کو وقتی طور پر روکنے کا باعث بنا بلکہ اس نے دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تنازعات کے حل میں فوجی راستہ ایک بند گلی ہے جبکہ امن کے لئے واحد قابل عمل راستہ بات چیت اور مذاکرات ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کی بنیادی وجوہات صرف سرحدی اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس میں تاریخی گلے شکوے، سکیورٹی خدشات اور جغرافیائی سیاسی دباؤ جیسے پیچیدہ عوامل شامل ہیں۔
ایسے کشیدہ حالات میں چین کا کردار صرف ایک مقام فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ دونوں فریقوں کے ساتھ تعمیری تعلقات رکھنے والے قریبی ہمسایہ ملک کے طور پر چین نے ایک قابل اعتماد، غیر جانبدار اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جو کشیدگی کم کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور کمزور اعتماد کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ یہ محض علامتی سفارت کاری نہیں بلکہ ایک غیر مستحکم خطے کو مستحکم بنانے کے لئے عملی اقدام ہے۔
پاکستان اور افغانستان دونوں نے تسلیم کیا ہے کہ تشدد صرف عدم تحفظ کو بڑھاتے ہیں۔ چین کی ثالثی نے توجہ کو تصادم سے ہٹا کر مشاورت کی طرف منتقل کرنے میں مدد دی ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ ارمچی مذاکرات نے چین کے پیش کردہ گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو کی بھی عکاسی کی، جو سلامتی کے لئے ایک نیا راستہ فراہم کرتا ہے جس میں تصادم کے بجائے مکالمہ، اتحاد کے بجائے شراکت داری اور اپنے فائدے کے لئے دوسرے کے نقصان کے بجائے باہمی فائدے کی سوچ شامل ہے۔ ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے لیکن ان کے ساتھ تعلقات کا انداز ضرور بدلا جا سکتا ہے۔
آگے کا راستہ یقیناً مسائل سے بھرپور ہے لیکن ارمچی میں ہونے والے مذاکرات نے ایک ایسا دروازہ کھولا ہے جس پر اگر احتیاط سے آگے بڑھا جائے تو دیرپا امن تک جایا جاسکتا ہے۔


