تہران (شِنہوا) ایران کے وزیر سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی صراف نے کہا ہے کہ فروری کے اواخر میں جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل نے 30 سے زائد ایرانی جامعات کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے یہ بات ایرانی دارالحکومت تہران میں واقع شہید بہشتی یونیورسٹی کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جسے جمعہ کے روز امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
سیمائی صراف نے کہا کہ ان حملوں میں 5 یونیورسٹی اساتذہ اور 60 سے زائد طلبہ شہید ہوئے۔ انہوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو "انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔


