دہشت گردوں و سہولت کاروں کیخلاف جاری آپریشن غضب للحق کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی آگئی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال آپریشن سے قبل صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات رواں سال کے نویں ہفتے میں درج ہوئے جن کی تعداد 48 تھی جو آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے کم ہوکر 12رہ گئے ہیں۔
اس حوالے سے وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے، آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں میں دہشت گردی حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے جنہوں نے پاکستان پر حملے کرنے کیلئے افغان سرزمین استعمال کی۔
دوسری جانب چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی واقعات میں کمی پاک فوج، پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہترین کارکردگی کی بدولت ممکن ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں قیام امن کیلئے شہید ہونیوالوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔


