ہومتازہ ترینچینی کمپنی نے انسانی حرکات کو فوراً نقل کرنے والا روبوٹ متعارف...

چینی کمپنی نے انسانی حرکات کو فوراً نقل کرنے والا روبوٹ متعارف کرا دیا

چین کی روبوٹ بنانے والی کمپنی ویسٹ لیک روبوٹکس نے اپنا انسان نما روبوٹ "ٹائٹن او ون” متعارف کرایا ہے جو کمپنی کے خود تیار کردہ بڑے ماڈل جنرل ایکشن ایکسپرٹ (جی اے ای) سے چلتا ہے۔یہ روبوٹ وقت اور جگہ کی قید کے بغیر حقیقی وقت میں انسانی حرکات کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس بنیادی ماڈل کی بدولت ایک ہی شخص کی نگرانی میں متعدد روبوٹس بیک وقت ایک جیسے کام انجام دے سکتے ہیں۔

ہانگ ژو میں اس ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے دوران حرکات ریکارڈ کرنے والا خصوصی لباس پہنے ایک آپریٹر نے جب ہاتھ ہلایا، گھُوما اور گیند کو لات ماری تو ’ٹائٹن او ون‘ نے ملی سیکنڈز میں ان تمام حرکات کی عین نقل پیش کر دی۔

بازو کے جھولنے کے زاویے اور دھڑ کی گردش سے لے کر قدموں کی لمبائی اور کِک مارنے کے دوران ٹانگ اٹھانے کی بلندی تک روبوٹ کی حرکات اپنے آپریٹر کی حرکات کے ساتھ انتہائی ہم آہنگ رہیں۔

ویسٹ لیک روبوٹکس کے بانی پروفیسر وانگ ڈونگ لِن نے وضاحت کی کہ یہ حرکات آپریٹر کے فوری اور خودکار تعامل کا حقیقی وقت میں ردعمل تھیں۔ وانگ کے مطابق اس سے قطع نظر کہ آپریٹر کون ہے یا اس کی حرکات کیسے تبدیل ہو رہی ہیں، ’ٹائٹن او ون‘ اس قابل ہے کہ خود کو فوری طور پر ان حرکات میں ڈھال دے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔

سیربیلم انسانی جسم میں حرکات کو قابو میں رکھنے والا دماغی حصہ ہے۔ یہ حرکت کو مربوط بنانے، توازن برقرار رکھنے اور درست و ہموار حرکت کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح اس انسان نما روبوٹ کے لئے جی اے ای کا کردار ایک طاقتور ’ حرکات کنٹرول کرنے والے عمومی نوعیت کے نظام‘ جیسا ہے۔ یہ نظام سگنل ملتے ہی روبوٹ کو مناسب ترین حرکات کی فوری انجام دہی کے قابل بناتا ہے چاہے وہ حرکات پہلے کبھی کی گئی ہوں یا نہیں۔

ویسٹ لیک روبوٹکس کے مطابق جی اے ای اس کے علاوہ بھی مختلف ڈھانچوں اور سائز کے روبوٹس پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے یہ بنیادی ماڈل وسیع اقسام کے روبوٹس پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپوٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چینی کمپنی نے جدید انسان نما روبوٹ ’ٹائٹن او ون‘ متعارف کرا دیا

’ٹائٹن او ون‘ روبوٹ انسانی حرکات کو حقیقی وقت میں نقل کرسکتا ہے

ویسٹ لیک روبوٹکس کا تیارکردہ روبوٹ جنرل ایکشن فاؤنڈیشن ماڈل سے چلتا ہے

ایک ہی آپریٹر کی زیرِنگرانی متعدد روبوٹس بیک وقت ایک جیسے کام کر سکتے ہیں

ہانگ ژو میں نمائش کے دوران آپریٹر نے ہاتھ ہلایا، گھوما اور گیند کِک کی

ٹائٹن او ون نے ملی سیکنڈز میں ہر حرکت کی عین نقل پیش کر دی

روبوٹ کی حرکات آپریٹر کے بازو، دھڑ، قدم اور ٹانگ کے ساتھ مکمل ہم آہنگ رہیں

یہ حرکات آپریٹر کے فوری اور خودکار تعامل کا حقیقی وقت میں ردعمل تھیں

جی اے ای انسانی دماغ کے سیربیلم کی طرح روبوٹ کی حرکات کنٹرول کرتا ہے

یہ نظام مختلف ڈھانچوں اور سائز کے روبوٹس پر بھی کام کر سکتا ہے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں