اوسلو (شِنہوا) بی آئی نارویجن بزنس سکول میں سٹریٹجی کے پروفیسر اور ناٹنگھم یونیورسٹی بزنس سکول چائنہ کے سابق ڈین کارل فے کا کہنا ہے کہ چین کے جاری "دو اجلاس "اور 15 ویں 5 سالہ منصوبے کا مجوزہ خاکہ اعلیٰ معیار اور اختراع پر مبنی ترقی کی طرف واضح منتقلی کا اشارہ ہے۔
شِنہوا کو دیئے گئے ایک حالیہ تحریری انٹرویو میں فے نے کہا کہ نیا منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ چین اب ترقی کی پیمائش صرف جی ڈی پی کی شرح نمو سے نہیں کر رہا بلکہ اس کا معیار اور تکنیکی مواد دیکھ رہا ہے جس میں "اختراع” اور "نئی معیاری پیداواری قوتیں” ملک کے ترقی کے اگلے مرحلے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کا مسودہ قومی عوامی کانگریس کے سالانہ اجلاس کے دوران جانچ پڑتال کے لئے قومی مقننہ میں پیش کیا گیا۔ حکومت کی کارکردگی رپورٹ میں اعلیٰ معیار کی ترقی، مقامی طلب میں اضافے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت پر زور دیا گیا ہے۔
فے نے کہا کہ نئے منصوبے کی ایک قابل ذکر خصوصیت ابھرتی ہوئی اور مستقبل کی صنعتوں پر بھرپور توجہ ہے۔ "دو اجلاسوں” کے دوران جاری ہونے والی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ چین کوانٹم ٹیکنالوجی، مجسم اے آئی، برین کمپیوٹر انٹرفیسز، ہائیڈروجن انرجی، نیوکلیئر فیوژن اور 6 جی موبائل کمیونیکیشن جیسے شعبوں کو فروغ دے گا۔
فے نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبے میں مقامی کھپت، ماحول دوست ترقی اور اعلیٰ سطح پر منڈیوں کو کھولنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حکومتی رپورٹ اور پالیسی دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چین ذاتی آمدنی اور کھپت کو بڑھانے کے لئے اقدامات کرے گا جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔


