ہومتازہ ترینایتھوپیا میں چائنہ فلم فیسٹیول کا آغاز، دونوں ممالک ثقافتی تعلقات کے...

ایتھوپیا میں چائنہ فلم فیسٹیول کا آغاز، دونوں ممالک ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لئے پُرعزم

چائنہ فلم فیسٹیول جمعہ کے روز ادیس ابابا میں شروع ہو گیا۔ افتتاحی تقریب میں دو سو سے زائد مہمان شریک ہوئے۔

یہ تقریب ایتھوپیا میں اعلیٰ تعلیم کےسب سے بڑے اور سب سے پُرانے ادارے ادیس ابابا یونیورسٹی (اے اے یو) میں ہوئی۔ اس موقع پر ایتھوپیا کی وزارت ثقافت و کھیل، ادیس ابابا یونیورسٹی اور چینی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

6 مارچ کو شروع ہونے والا چائنہ فلم فیسٹیول 28 مارچ تک جاری رہے گا۔ اس میں آٹھ نمایاں چینی فلمیں پیش کی جائیں گی۔ افتتاحی تقریب میں فلم “میرے لوگ، میرا جذبۂ خدمت” دکھائی گئی۔ یہ فلم لگن، ذمہ داری اور عوام کی خدمت کی حقیقی کہانیاں بیان کرتی ہے جو لوگوں کی زندگی بہتر بنانے اور چین بھر میں ترقی کو فروغ دینے کی عکاسی کرتی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایتھوپیا کے ثقافت و کھیل کے وزیر نیبیو بائے نے کہا کہ یہ فیسٹیول چینی اور ایتھوپیائی فلم سازوں کو مہارتوں کے تبادلے، مشترکہ تخلیق اور دونوں ممالک کے ناظرین سے رابطے کا ایک قیمتی پلیٹ فارم ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی) : نیبیو بائے، وزیر ثقافت و کھیل، ایتھوپیا

"ہم ایتھوپیا اور چین کے درمیان طویل عرصے سے قائم دوستی اور جامع تعاون کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ثقافتی اور عوامی سطح کے تبادلے ہمارے دوطرفہ تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ فلم، ٹیلی ویژن اور تخلیقی صنعتوں میں تعاون کو مضبوط بنا کر ہم باہمی احترام کو فروغ دیتے، دوستی کو گہرا کرتے اور اپنی وسیع تر شراکت داری کے لئے ایک ٹھوس بنیاد رکھتے ہیں۔”

اس موقع پر ایتھوپیا میں چین کے سفیر چھن ہائی نے کہا کہ ثقافتی تبادلوں کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر فلم اور ٹیلی ویژن طویل عرصے سے چینی اور ایتھوپیائی عوام کے دلوں کو جوڑے ہوئے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی) : چھن ہائی، چین کے سفیر برائے ایتھوپیا

"حالیہ برسوں میں چین اور ایتھوپیا کے درمیان فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبے میں تعاون مزید گہرا اور مضبوط ہوا ہے۔ یہ تعاون بہترین فلموں کی باہمی نمائش سے لے کر مشترکہ تخلیق کی تلاش اور عملی کوششوں تک، تاریخی مناظر کی اعلیٰ معیار کی بحالی سے لے کر ڈیجیٹل مواصلاتی پلیٹ فارمز کی مشترکہ ترقی تک پھیلا ہوا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ چینی فلم اور ٹیلی ویژن کے فن پارے حقیقی کہانیوں اور جاندار کرداروں کے ذریعے "انسانیت کے لئے ایک مشترکہ مستقبل کی برادری” کا تصور پیش کرتے ہیں۔ اس بات کو افریقی براعظم میں وسیع پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے۔

ادیس ابابا یونیورسٹی کے صدر سیموئل کیفلے نے کہا کہ چین اور ایتھوپیا تعلیم، انفراسٹرکچر، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دیرپا، جامع اور اسٹریٹجک شراکت داری کے مالک ہیں۔ اب دونوں ممالک کے درمیان فلم سازی اور ثقافتی تبادلوں میں بھی تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی) : سیموئیل کیفلے، صدر، ادیس ابابا یونیورسٹی

"ہم اپنے کیمپسز میں چینی سینما پیش کر کے مکالمے، تعلیم اور تفریح کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ ایسے ثقافتی مواقع ہمارے علمی ماحول کو مالا مال کرتے ہیں اور کھلے ذہن اور عالمی شعور رکھنے والےہمارے طلبہ کی پرورش کرتے ہیں۔”

رواں برس چین اور افریقہ کے درمیان عوامی تبادلے کا سال بھی منایا جا رہا ہے۔ اس فلمی میلے سے توقع کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور تعلیمی تبادلے کو مزید گہرا کیا جائے گا۔

ادیس ابابا سے شنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

ایتھوپیا میں چائنہ فلم فیسٹیول جمعہ کے روز شروع ہو گیا

افتتاحی تقریب میں دو سو سے زائد مہمان شریک ہوئے

تقریب ملک کے قدیم تعلیمی ادارےادیس ابابا یونیورسٹی میں منعقد ہوئی

تقریب میں وزارت ثقافت و کھیل اور چینی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام موجود تھے

فیسٹیول میں آٹھ نمایاں چینی فلمیں پیش کی جائیں گی

افتتاحی فلم "میرے لوگ، میرا جذبۂ خدمت” دکھائی گئی

فلم عوام کی خدمت اور چین بھر میں ترقی کی عکاسی کرتی ہے

وزیر ثقافت و کھیل نے فلمی تعاون کے پلیٹ فارم کی اہمیت بتائی

چینی سفیر نے فلم کو ثقافتی تبادلوں کا مؤثر ذریعہ قرار دیا

یونیورسٹی کے صدر نے فلمی میلوں سے طلبہ کی تعلیم اور شعور پر روشنی ڈالی

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں