جمعرات, جنوری 8, 2026
ہومپاکستانآصف زرداری کا کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھنے...

آصف زرداری کا کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

صدر آصف زرداری نے حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی جبر، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور آبی وسائل پر قبضہ سنگین خطرہ ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے، عالمی برادری کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے میں کردار ادا کرے۔

یوم حق خود ارادیت پر جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ 5 جنوری کو پاکستان کے عوام، جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مل کر یومِ حق خود ارادیت مناتے ہیں، یہ دن 1949 میں اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی منظوری کی یاد دلاتا ہے جس میں جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کی توثیق کی گئی اور جموں و کشمیر کے عوام کو آزاد اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیا گیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا، وقت گزرنے سے نہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت میں وئی کمی آئی ہے نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے مطالبے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کمزور ہوئی ہے، اس بنیادی حق سے مسلسل انکار اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے، سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر وسیع پابندیاں، طویل نظر بندیاں اور جابرانہ قوانین کے استعمال نے خوف کی فضا قائم کردی ہے، عام شہری تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں جبکہ خاندان بے گھر اور لوگ روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر سے نکلنے والے دریاں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ایک اور سنگین چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہیں جن کے کشمیری عوام کی زندگیوں اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ایک خطرناک کوشش کی عکاسی کرتی ہے جس سے لاکھوں لوگوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ تنازعہ جموں و کشمیر ،کشمیری عوام کی خواہشات سے جڑا ہوا ہے اور اسے طاقت یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف بامعنی مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

صدر زرداری نے کہا کہ اس موقع پر میں، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حق خود ارادیت دلانے کیلئے موثر کردار ادا کرے۔

صدر مملکت نے حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!