بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے لیے بات چیت اور تعاون ہی واحد درست راستہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران شی نے کہا کہ چین-امریکہ تعلقات کے دیوہیکل بحری جہاز کی سمت درست کرنے کے لیے دونوں فریقوں کو قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے صحیح راستہ اختیار کرنا ہوگا، مختلف قسم کی رکاوٹوں اور خلفشار سے بچنا خاص طور پر اہم ہے۔شی نے اس بات کا حوالہ دیا کہ حال ہی میں امریکی تجویز پر جنیوا میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اقتصادی و تجارتی اجلاس ہوا ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم قدم تھاجس کا مقصد بات چیت اور مشاورت کے ذریعے متعلقہ مسائل کو حل کرنا ہے اور یہ اقدام دونوں ممالک کی عوام اور بین الاقوامی برادری نے سراہا۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو موجودہ اقتصادی و تجارتی مشاورت کے طریقہ کار سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیےاور برابری و باہمی احترام کی بنیاد پر باہمی مفاد کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اس حوالے سے مخلص ہے لیکن اس کے کچھ اصول بھی ہیں۔شی نے کہا کہ چینی ہمیشہ اپنے وعدے پورے کرتے ہیں اور دونوں ممالک کو جنیوا میں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔چین سنجیدگی سے اس معاہدے پر عمل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پہلے سے ہونے والی پیشرفت کو تسلیم کرنا چاہیے اور چین کے خلاف اٹھائے گئے منفی اقدامات کو ہٹانا چاہیے۔شی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو خارجہ امور، معیشت و تجارت، فوجی اور قانون نافذ کرنے جیسے شعبوں میں رابطوں کو فروغ دینا چاہیے تاکہ مفاہمت قائم ہو، غلط فہمیاں دور ہوں، اور تعاون مضبوط ہو۔صدر شی نے زور دیا کہ امریکہ کو تائیوان کے معاملے سے دانشمندی سے نمٹنا ہوگا تاکہ "تائیوان کی آزادی” کی حامی علیحدگی پسند قوتیں چین اور امریکہ کو تصادم یا حتیٰ کہ محاذ آرائی کی خطرناک صورتحال کی طرف نہ دھکیل سکیں۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدر شی کا بہت احترام کرتے ہیں اور چین-امریکہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ چینی معیشت ترقی کرے اور چین و امریکہ مل کر بہت سے بڑے کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک چین پالیسی کا احترام کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنیوا میں ہونے والی ملاقات بہت کامیاب رہی اور اس میں ایک اچھا معاہدہ ہوا اور امریکہ چین کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر عملدرآمد کرے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ چینی طلبا کا اپنی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا پسند کرتا ہے۔شی جن پھنگ نے ٹرمپ کو ایک بار پھر چین کے دورے کی دعوت دی جس پر ٹرمپ نے دلی طورپر شکریہ ادا کیا۔دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی ٹیمز جنیوا معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھیں گی اور جلد از جلد ایک اور ملاقات کا اہتمام کریں گی۔


