ایک مصری ماہر کا کہنا ہے کہ مصر اور چین میں 70 برس قبل سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور اب یہ دونوں ملک ایک بہتر مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لئے پرعزم ہیں۔
مصر کے الاہرام مرکز برائے سیاسی و تزویراتی مطالعات کے بین الاقوامی تعلقات شعبے کے سربراہ احمد قندیل نے شِنہوا کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ مصر اور چین کی شراکت داری وقت کے ساتھ ساتھ مزید وسیع اور مستحکم ہوئی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (عربی): احمد قندیل، سربراہ، شعبہ بین الاقوامی تعلقات، الاہرام مرکز برائے سیاسی و تزویراتی مطالعات، مصر
’’مصر اور چین کے تعلقات تاریخی دوستی اور روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر مستقبل پر مبنی جامع تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔‘‘
احمد قندیل نے ’’مصر چین تعلقات سے متعلق تزویراتی رپورٹ 2025-2024‘‘ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔ اس رپورٹ کو الاہرام مرکز برائے سیاسی و تزویراتی مطالعات نے شائع کیا۔
مصر اور چین کے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون تجارت اور سرمایہ کاری سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ اب اس تعاون میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، ماحول دوست توانائی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے جیسے شعبے بھی شامل ہو گئے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (عربی): احمد قندیل، سربراہ، شعبہ بین الاقوامی تعلقات ، الاہرام مرکز برائے سیاسی و تزویراتی مطالعات، مصر
’’اقتصادی سطح پر مصر اور چین کے تعاون میں نمایاں ساختی تبدیلی آئی ہے۔ اس تبدیلی کی عکاسی نہر سویز کے اقتصادی زون میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے سے ہوتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کے حوالے سےقابل تجدید توانائی، ماحول دوست ہائیڈروجن، جدید صنعتیں اور لاجسٹکس کے شعبے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔‘‘
ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع مصر کے تزویراتی محل وقوع کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات کے ماہر نے کہا کہ چین کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کے حوالے سے ان کے ملک کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔ بی آر آئی عرب، افریقی اور یورپی منڈیوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
ماہر نے مزید کہا کہ چین کے تجویز کردہ اقدامات مصر جیسے عالمی جنوب کے ممالک کو مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے وسیع تر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں انہیں زیادہ تزویراتی لچک بھی حاصل ہوتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (عربی): احمد قندیل، سربراہ، شعبہ بین الاقوامی تعلقات ، الاہرام مرکز برائے سیاسی و تزویراتی مطالعات، مصر
’’مصر میں اقتصادی ترقی کے منصوبوں کی معاونت کے لئے نئے مالیاتی طریقہ کار وضع کرنے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان نئے مالیاتی طریقوں میں پانڈا بانڈز اور قرض کو ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مالیاتی طریقہ کار بھی ہیں جو مصر کی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے اور مصر کے وژن 2030 کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے ہم آہنگ کریں گے۔
میرا ماننا ہے کہ 70 برس بعد دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لینا ہمیں ایک انتہائی مثبت اور امید افزا نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح یہ تعلقات عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مثال بن جاتے ہیں۔‘‘
قاہرہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


