ہومتازہ ترینچین اور تنزانیہ کے طبی تعاون سے مریضوں کو مصنوعی ذہانت پر...

چین اور تنزانیہ کے طبی تعاون سے مریضوں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیص کی سہولت میسر

دارالسلام (شِنہوا) تنزانیہ کے شہر زنجبار کے لمومبا علاقائی ہسپتال کے ریڈیالوجی شعبے میں ایک خاموش تکنیکی انقلاب رونما ہو رہا ہے جو ڈاکٹروں کے بیماریوں کی تشخیص، طبی فیصلوں اور انسانی جانیں بچانے کا انداز بدل رہا ہے۔

اس جزیرے پر مصنوعی ذہانت کا نظام طبی معائنوں اور تصاویر کے تجزیے میں ڈاکٹروں کی مدد کر رہا ہے جبکہ دور دراز سے آن لائن مشاورت کے ذریعے مقامی معالجین کو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے ماہرین سے جوڑا جا رہا ہے۔

یہ فاصلے مٹانے میں زنجبار میں موجود 35 ویں چینی طبی ٹیم کے ریڈیالوجسٹ یوآن گانگ اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو مقامی امیجنگ، کلاؤڈ پر مبنی اے آئی تجزیے اور بر وقت ماہرانہ مشاورت کو یکجا کر رہے ہیں۔

مقامی معالج ہیثم حمودو کا کہنا ہے کہ زنجبار کا طبی نظام سالوں سے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں مشکلات کا شکار تھا جس کی بنیادی وجہ امیجنگ ماہرین کی کمی، کام کا انتہائی بوجھ اور جدید تشخیص کے آلات کی عدم دستیابی ہے۔

ہیثم نے بتایا کہ سکینز اور تصاویر کا معائنہ، جسے جدید طب کی "آنکھیں” کہا جاتا ہے، ماہرین کی عدم دستیابی اور آلات کے فقدان کے باعث سب سے زیادہ متاثر تھا۔

یوآن گانگ نے ہسپتال کے امیجنگ نظام کو چین کے مشرقی صوبے جیانگسو کے لیان یونگ گانگ فرسٹ پیپلز ہسپتال سے جوڑ کر تین سطحی تشخیصی نظام متعارف کرایا ہے۔ اس میں مقامی ڈاکٹروں کا ابتدائی معائنہ، مصنوعی ذہانت کی معاونت سے نشاندہی و درجہ بندی اور چینی ماہرین کے جائزے کے ذریعے معیار کی حتمی توثیق شامل ہے۔

اس مخلوط ماڈل نے زنجبار کے ڈاکٹروں کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ مریضوں کو جزیرے سے باہر بھیجے بغیر چین کے صف اول کے ہسپتالوں کے اعلیٰ معیار اور درست تشخیص تک رسائی فراہم کر سکیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں