یروشلم (شِنہوا) تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جنگوں اور عدالتی اصلاحات سے متعلق تنازع کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کے باعث 2023 سے 2025 کے درمیان تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار اسرائیلی کم از کم مسلسل تین ماہ کے لئے ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار پر مبنی اس تحقیق کے مطابق 2025 میں 90 ہزار 922 اسرائیلی مسلسل تین ماہ یا اس سے زیادہ عرصے کے لئے ملک سے باہر گئے، جو تقریباً ایک کروڑ 2 لاکھ آبادی کا تقریباً 0.89 فیصد بنتے ہیں۔ یہ تعداد 2024 کی سطح کے تقریباً برابر ہے اور 2023 کے مقابلے میں معمولی زیادہ ہے۔
محققین کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2023 میں شروع ہونے والی ہجرت کی لہر تاریخی طور پر بلند سطح پر برقرار ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق 2025 کے دوران 45 ہزار سے 50 ہزار اسرائیلی کم از کم ایک سال کے لئے ملک چھوڑ چکے ہوں گے۔
محققین نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بڑھتی ہوئی ہجرت خصوصاً ٹیکنالوجی، طب اور جامعات جیسے شعبوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین کے انخلا کے باعث اسرائیل کی معیشت اور معاشرے پر دباؤ ڈال سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل کی معیشت بڑی حد تک ہنرمند افرادی قوت پر انحصار کرتی ہے۔


