اسلام آباد (لارڈ میڈیا): ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔ ان حادثات سے کئی علاقوں میں املاک اور زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
کوہاٹ کے علاقے پایا جواکی میں ندی نالے کے تیز بہاؤ میں ماں، بیٹا اور بیٹی بہہ گئے۔ مقامی افراد نے امدادی کارروائی کرتے ہوئے ماں اور بیٹی کی لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کر دیں، جبکہ بیٹے کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
لوئر دیر کی تحصیل ثمرباغ کے علاقے جوزو میں اسکول سے گھر واپس آنے والا 10 سالہ طالب علم عمر اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو کے مطابق کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد بچے کی لاش درنگال چکدرہ کے مقام سے برآمد کر لی گئی۔
پاکپتن میں پانچ سالہ بچہ پاؤں پھسلنے کے باعث نہر میں گر کر ڈوب گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی تلاش کے لیے آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ والدین نے بتایا کہ وہ کھیتوں کی طرف جا رہے تھے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ بچہ بھی ان کے پیچھے گھر سے نکل آیا ہے۔
چترال کے علاقے جوغور میں فلش فلڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ سیلاب سے 25 سے زائد گھروں، زرعی زمینوں اور رابطہ پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم متاثرین کا مؤقف ہے کہ انہیں تاحال حکومتی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
کھاریاں کی ڈوگہ کالونی میں جانوروں کے ایک کچے برآمدے کی چھت گرنے سے دو خواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے تمام زخمیوں کو ملبے سے نکال کر تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
راولپنڈی میں بھی متعدد نشیبی علاقے زیرآب آگئے جبکہ ایک 6 سالہ بچہ نالے میں ڈوب گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی گلیوں میں داخل ہوگیا، جبکہ ڈھوک کھبہ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی ہے۔
کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ شدید بارش کے بعد کئی مقامات پر آمدورفت متاثر ہوئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


