ہومتازہ ترینچائنہ کاٹن ایسوسی ایشن کی چینی کمپنیوں پر جبری مشقت کے امریکی...

چائنہ کاٹن ایسوسی ایشن کی چینی کمپنیوں پر جبری مشقت کے امریکی الزامات کی مخالفت

بیجنگ (شِنہوا) ایک چینی صنعتی ایسوسی ایشن نے امریکہ کی جانب سے چین کی کاٹن ٹیکسٹائل فرموں سمیت 43 کمپنیوں کو نام نہاد ’’ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون کے تحت اداروں کی فہرست‘‘ میں شامل کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی تجارت کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

چائنہ کاٹن ایسوسی ایشن (سی سی اے) نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے ’’جبری مشقت‘‘ کے الزامات کی کوئی حقیقت پر مبنی اور قانونی بنیاد نہیں، ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ چین کی کپاس کی صنعت نے ہمیشہ مارکیٹ کے اصولوں اور جدید ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ چین میں کپاس کی پیداوار کے اہم علاقے سنکیانگ میں 90 فیصد سے زائد کٹائی مشینوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کاشت کاری اور کٹائی سے پروسیسنگ اور ٹیکسٹائل کی تیاری تک پورا صنعتی عمل انتہائی خودکار اور بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی قوانین کے تحت کپاس کے کسانوں اور صنعتی کارکنوں کے حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کیا جاتا ہے اور ان کی روزگار کی ترجیحات مکمل طور پر ان کی مرضی پر مبنی ہیں۔ وہاں نام نہاد جبری مشقت کا کوئی وجود نہیں۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام حقائق کو نظر انداز کرتا ہے اور چینی کمپنیوں کو پہلے ہی قصوروار تصور کرتا ہے۔ اس اقدام کا اصل مقصد انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا اور انہیں دباؤ کے ہتھیار کے طور پر بروئے کار لانا ہے تاکہ چین کی کپاس اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں کی ترقی کو محدود کیا جا سکے۔

سی سی اے کے مطابق یہ پابندیاں عالمی سطح پر کپاس کی صنعتی اور ترسیل کے نظام کے استحکام کو بھی نقصان پہنچائیں گی اور چینی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کو متاثر کریں گی۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ چین کی کپاس کی صنعت بیرونی دباؤ کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز پر قابو پانے کے مکمل اعتماد اور صلاحیت کی حامل ہے۔ چین کے پاس کپاس اور کپڑے کی صنعت کا دنیا کا سب سے مکمل سلسلہ، ایک وسیع مقامی منڈی اور تیزی سے فروغ پاتی بین الاقوامی مارکیٹ موجود ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ چینی کپاس اور ٹیکسٹائل کے اداروں کے جائز حقوق اور مفادات کی حمایت اور تحفظ کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں