ہومتازہ ترینپاکستان ریلویز کے بوسیدہ انفراسٹرکچر سے حادثات میں تشویشناک اضافہ

پاکستان ریلویز کے بوسیدہ انفراسٹرکچر سے حادثات میں تشویشناک اضافہ

لاہور (لارڈ میڈیا): پاکستان ریلویز کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے ٹرین حادثات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مسافروں اور ملازمین کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ پچھلے دو ماہ کے دوران چار سے پانچ حادثات نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں اور سیلاب نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ فیصل آباد اور دیگر شہروں کو جانے والی ریل سروس عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہو رہے ہیں اور ریلوے انتظامیہ کو کروڑوں روپے کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے۔

پاکستان ریلویز کا ڈیڑھ دو سو سال پرانا ریلوے ٹریک انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے گاڑیاں کچوے کی رفتار پر چلنے پر مجبور ہیں۔ بُک اسپیڈ 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، مگر گاڑیاں 55 سے 78 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چل رہی ہیں۔ اگر رفتار بڑھائی جائے تو حادثات کا خطرہ ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ خستہ حالی کا شکار سکھر سے کراچی تک کا ریلوے ٹریک ہے، جہاں انجینئرنگ ریسٹیکشن کی وجہ سے رفتار کو محدود کر دیا گیا ہے۔ یہاں اوسط رفتار 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق، پاکستان ریلویز نے ریکارڈ 115 ارب روپے آمدنی کمائی ہے اور اربوں روپے کے معاملات مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پا چکے ہیں۔ کراچی سکھر ڈویژن میں اربوں روپے کی لاگت سے انفراسٹرکچر تیار کرنے کے لیے کام جلد شروع ہو جائے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں