کراچی (لارڈ میڈیا) ماہرین صحت نے مون سون کے دوران فالج کے خطرے میں اضافے سے بچنے کے لیے اہم احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اچانک موسم کی تبدیلی، ہوا میں نمی کا اضافہ اور مختلف انفیکشنز کا خطرہ ان افراد کے لیے زیادہ ہوتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، بلند کولیسٹرول یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں۔
نیورولوجی ماہرین کے مطابق بارشوں کے موسم میں درجہ حرارت اور نمی میں تبدیلیاں جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہیں، جس سے بعض افراد کا بلڈ پریشر غیر متوازن ہو جاتا ہے اور خون کی شریانوں کے مسائل کا شکار افراد میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ مون سون کے دوران وائرل انفیکشنز، نزلہ، کھانسی، معدے کی خرابی اور جسم میں پانی کی کمی جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، جو بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
ماہرین نے فالج کی علامات پہچاننے کے لیے ‘بی ای ایف اے ایس ٹی’ اصول یاد رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس میں جسمانی توازن، بینائی، چہرے، بازو یا ٹانگ میں تبدیلی، بولنے میں دشواری شامل ہیں۔
صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہائی رسک افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی باقاعدہ نگرانی کریں، متوازن غذا لیں، تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اور جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی میں شامل کریں۔


