نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر تک اپنے ملک واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں، حالانکہ ان پر سزائے موت کا فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے مگر وہ عوام کی آواز پر وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔
شیخ حسینہ نے بتایا کہ انہیں گرفتاری اور قتل کے خدشات کا علم ہے، مگر وہ اپنے عوام کی پکار پر لبیک کہنا چاہتی ہیں۔ اگست 2024 میں حکومت مخالف تحریک کے بعد وہ بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔
ڈھاکا کی ایک عدالت نے نومبر 2025 میں شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ شیخ حسینہ نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
شیخ حسینہ فی الحال بھارت میں ایک خفیہ مقام پر موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ان کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ ان کی واپسی کا فیصلہ ذاتی ہے اور اس کا دونوں ممالک کے سفارتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔
بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اگر شیخ حسینہ وطن واپس آتی ہیں تو انہیں قانون کے مطابق منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق دیا جائے گا۔


