اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سخت امیگریشن اقدامات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مسافروں کی جانچ کے نظام کے نفاذ کے بعد بیرون ملک بھیک مانگنے کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے سینئر افسر ڈاکٹر اطہر وحید نے کہا ہے کہ بیرون ملک بھکاریوں کی بے دخلی کے واقعات میں 75 فیصد کمی آئی ہے جبکہ جعلی سفری دستاویزات کے باعث بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 31 فیصد کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2024 کے مقابلے میں 2025 میں یورپی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی مجموعی بے دخلی میں بھی 16 فیصد کمی آئی ہے۔
یورپی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی (فرونٹیکس) کی رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کی یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں 47 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ بہتری اپ گریڈ شدہ انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس دوم) کے نفاذ کے بعد ممکن ہوئی۔
ایف آئی اے نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے بے دخلی کے واقعات میں بھی مجموعی کمی کا رجحان رپورٹ کیا ہے۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امیگریشن) نعمان صدیقی نے بتایا کہ 2024 میں بھیک مانگنے کے الزام میں 4800 پاکستانی بے دخل کیے گئے تھے جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 1100 کے قریب رہ گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق پاکستانی ہوائی اڈوں پر بھی نگرانی کو مزید سخت کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 2025 میں 597 افراد کو پرواز سے اتارا گیا جبکہ 2026 کے پہلے 6 ماہ میں یہ تعداد صرف 27 رہی۔


