بیجنگ (شِنہوا) چینی محققین نے ہائبرڈ چاول کی کلوننگ میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس سے سالانہ بیج کی پیداوار کے روایتی طریقوں میں بنیادی تبدیلی لانے اور عالمی غذائی تحفظ کے لیے نئی تکنیکی معاونت کرنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
چائنہ نیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق وانگ کی جیان کی قیادت میں ایک ٹیم نے سالہا سال کی مسلسل کوششوں کے بعد چاول میں موجود ایک اندرونی جین کی کامیابی سے نشاندہی اور وضاحت کی ہے جسے انہوں نے ہوا شُو کا نام دیا ہے۔
سائنسی جرنل ویٹا میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہائبرڈ چاول کے بیضہ خلیوں میں یہ ہوا شُو جین موثر طریقے سے بغیر بارآوری افزائش کو تحریک دیتا ہے اور نصف جینیاتی مادے والے بیج پیدا کرتا ہے۔
جب اس عمل کو کلون شدہ گیمٹ حکمت عملی کے ساتھ جوڑا گیا تو اس ٹیم کی تیار کردہ متعدد اپومیکٹک لائنوں نے کلوننگ کی 100 فیصد کے قریب کارکردگی حاصل کی۔
مختلف حالات جن میں ہائبرڈ چاول کی مختلف اقسام، کئی نسلوں پر محیط، متنوع کاشتکاری اور بڑے پیمانے پر میدانی تجربات شامل ہیں کے تحت کلوننگ کی کارکردگی مسلسل 99 فیصد سے زیادہ اور پیداوار بھی معمول کے مطابق حاصل ہوئی۔
یہ ’ون لائن ہائبرڈ رائس‘ کے نظام کے لیے ’’1 سے 100‘‘ کے ہدف کا پہلا باضابطہ حصول ہے جو ’’نسل در نسل مسلسل افزائش‘‘ کے وژن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
کلوننگ کی کارکردگی سے مراد مصنوعی طور پر حاصل کردہ ’اپومکسس‘ کے ذریعے پیدا ہونے والے ان بیجوں کا تناسب ہے جو جینیاتی طور پر اپنے اصل پودے کے عین مطابق ہوتے ہیں۔


