ہومتازہ ترینمتعدد ممالک کے عوام امریکا کے مقابلے میں چین کے بارے میں...

متعدد ممالک کے عوام امریکا کے مقابلے میں چین کے بارے میں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں: رپورٹ

واشنگٹن (شِنہوا) پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک میں عوام اب امریکا کے مقابلے میں چین کے بارے میں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ کی بنیاد 36 ممالک میں8 فروری سے 13 مئی 2026 کے درمیان 42،151بالغ افراد سے کیے گئے سروے پر رکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں چین اور امریکا کے بارے میں عالمی رائے عامہ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں کردار اور دیگر متعلقہ امور کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 36 ممالک میں سے بیشتر میں امریکا کے مقابلے میں چین کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ ایشیا بحرالکاہل اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں یہ فرق خاص طور پر نمایاں رہا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا کے قریبی ہمسایہ ممالک کینیڈا اور میکسیکو کے عوام بھی امریکا کے مقابلے میں چین کو زیادہ مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔

چین اور امریکا کی خارجہ پالیسی سے متعلق عوامی تاثرات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ سروے میں شامل درمیانی آمدنی والے ممالک، جن میں لاطینی امریکا، صحرائے صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک، مشرق وسطیٰ اور ایشیا بحرالکاہل کے ممالک شامل ہیں، وہاں لوگوں نے چین کے مقابلے میں امریکی خارجہ پالیسی پر زیادہ تشویش کا اظہار کیا۔

سروے میں شامل افراد کی اوسطاً 75فیصد تعداد نے کہا کہ امریکا دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں بہت زیادہ مداخلت کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ہر سروے شدہ ملک میں چین کے مقابلے میں امریکا کو دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرنے والا ملک سمجھنے والے افراد کی تعداد زیادہ تھی۔

اسی طرح درمیانی آمدنی والے متعدد ممالک کے عوام چین کو امریکا کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے ہیں۔ ان ممالک کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ میں زیادہ مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر چین کے بارے میں مثبت تاثرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ متعدد ممالک کے عوام چین کی شراکت داری، خارجہ پالیسی اور امن و استحکام کے لیے کردار کو زیادہ اعتماد کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں