چھنگ دو (شِنہوا) ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے متعلق اپیک وزارتی اجلاس 2026 میں ایک وزارتی اعلامیہ منظور کیا گیا ہے، جس میں تمام رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے کو بااختیار بنانے کے لئے ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجیز کو مشترکہ طور پر فروغ دیا جائے۔ یہ اعلامیہ آئندہ برسوں میں ان شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ایک عملی لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل، اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایشیا بحرالکاہل کے ممالک کے درمیان تبادلہ خیال اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھے جانے والے اس وزارتی اجلاس کا انعقاد جمعرات کو چین کے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے دارالحکومت چھنگ دو میں "ایشیا بحرالکاہل کی مشترکہ ترقی کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت” کے عنوان کے تحت کیا گیا۔

چین کے جنوب مغربی صوبےسیچھوان کے شہر چھنگ دو میں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے متعلق اپیک وزارتی اجلاس 2026 میں مہمان شریک ہیں-(شِنہوا)
چین کے وزیر صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی لی لے چھینگ نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس کے نتائج پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں مواصلاتی اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنے پر خاص زور دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں طے پانے والے اتفاق رائے، خصوصاً روایتی صنعتوں کی ڈیجیٹل اور سمارٹ تبدیلی کو فروغ دینے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو ہلکے پھلکے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کے ذریعے اپنی مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں معاونت سے متعلق نکات نے ایشیا بحرالکاہل کی تمام معیشتوں کے لئے عوامی ضروریات اور مقامی حالات کے مطابق ترقی کی راہیں فراہم کی ہیں۔
لی نے مزید کہا کہ چین اپیک کے پلیٹ فارم سے بھرپور استفادہ جاری رکھے گا، تمام رکن معیشتوں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، اس اجلاس میں طے پانے والے اتفاق رائے پر عملدرآمد کرے گا اور باہمی تبادلہ خیال اور تعاون کو مزید وسعت دے گا۔


